خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 324
خطبات طاہر جلد ۳ 324 خطبه جمعه ۲۲ جون ۱۹۸۴ء انتظار میں پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ دنیا کا محبوب تو اب نہ آیا تو پھر آگیا اور اس کا آنا اور جانا عارضی حقیقتیں ہیں اور وہ لذتیں جو پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے وہ بھی اس قدر عارضی ہوتی ہیں کہ بسا اوقات ان کی یا دلذت پیدا کرنے کی بجائے دکھ پیدا کر دیتی ہے، یعنی لذتیں بھی عارضی اور ان کی یاد بھی دکھ کا موجب لیکن جس لیلۃ القدر کی مومن انتظار کرتا ہے اس کی بالکل مختلف کیفیت ہے۔ وہ اگر چند لمحوں کے لئے بھی آئے تو ساری زندگیاں سنوار جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے الف کا لفظ عربی میں صرف ہزار کے لئے نہیں بولا جاتا بلکہ تکمیل عدد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جس طرح باقی زبانوں میں لاکھ، دس لاکھ، کروڑ ، ارب اس قسم کے الفاظ موجود ہیں عربی میں نہیں ، عربی میں ہزار وہ آخری عدد ہے جس کا ذکر عربی زبان میں ملتا ہے۔ تو چونکہ آخری ہے اس لحاظ سے تکمیل کا مظہر بن جاتا ہے اس سے اوپر کوئی عدد ہو نہیں سکتا۔ تو جب کہنا ہو کہ ایک ایسا مقام جس کے اوپر کوئی اور مقام نہ ہو اعداد کی دنیا میں تو اس کے لئے الف لفظ استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے معانی صرف یہ نہیں ہیں کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے بلکہ یہ مراد ہے تم اپنی گفتی کو جس انتہا تک بھی پہنچا دو اس سے بھی وہ رات بہتر ہے کیونکہ ہم نے تکمیل کے عدد میں اس کی خوبی کا ذکر کیا ہے۔ یہ رات کیا چیز ہے اور اس سے کس طرح استفادہ ہونا چاہئے؟ اس مضمون سے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہایت ہی عارفانہ روشنی ڈالی ہے اور نئے پہلوؤں سے اس رات کے متعلق اس کی حقیقتوں سے متعلق ہمیں متعارف فرمایا۔ خصوصیت کے ساتھ آپ نے یہ بیان فرمایا لہ اس لیلتہ القدر سے مراد دراصل اول طور پر وہ زمانہ ہے یعنی وہ تاریکی اور ظلمار کا زمانہ جو قرآن کے نزول کا زبان حال سے مطالبہ کر رہا تھا اور آنحضرت ﷺ کے دل کی بے قرار تمنا جو اس علوسه ۔ رات میں عرش تک پہنچی وہ قرآن کریم کے نزول کا موجب بنی ۔ تو رات کے اندر جو کیفیات ہوتی ہیں مختلف ان کا ذکر فرما کر آپ نے قرآن کریم کے نزول کو اس فجر سے تشبیہ دی جس کا اس سورت میں ذکر ملتا ہے لیکن اس کو سمجھانے کے لئے چونکہ عموماً عربی زبان کا معیار بہت تھوڑا ہے کچھ زیادہ تفصیل سے بیان کرنا پڑے گا۔ صلى الله رات کے لئے بہت سے الفاظ ہیں لیکن لیل اور لیلة یہ دو لفظ ملتے جلتے عربی میں موجود ہیں۔لیل کا جوالٹ ہے اس کا عکس نھار بیان کیا جاتا۔ کا عکس نھار بیان کیا جاتا ہے اور لیلۃ کا Opposite Number