خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 323
خطبات طاہر جلد ۳ 323 خطبه جمعه ۲۲ جون ۱۹۸۴ء ليلة القدر كى لطيف تغيير ( خطبه جمعه فرمود ۲۲ جون ۱۹۸۴ء بمقام مسجد فضل لندن) / تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ القدر کی تلاوت فرمائی: اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِةٌ وَمَا أَدْرِيكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍةٌ تَنَزَّلُ الْمَلبِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ امْرِه سَلَّمُ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر) رمضان مبارک اپنے تیسرے دہا کے میں یعنی آخری عشرے میں داخل ہو چکا ہے اور یہ وہ عشرہ ہے جس کا ایک مدت سے مسلمانوں کو انتظار رہتا ہے۔رمضان میں داخل ہوتے ہی توجہ آخری عشرے کی طرف مائل ہونے لگتی ہے اور جوں جوں رمضان آگے بڑھتا ہے اس عشرے کی برکات سے فائدہ اٹھانے کی تمنا اور بھی زیادہ بے قرار ہوتی چلی جاتی ہے۔اس آخری عشرے میں وہ کیا بات ہے جس کے لئے مومن کا دل بڑی بے چینی کے ساتھ انتظار کرتا ہے؟ وہ لیلۃ القدر ہے دراصل جس کی تلاش ، جس کی تمنا میں مومن اس سے زیادہ بے چینی سے لیلۃ القدر کی راتوں کا انتظار کرتا ہے جس طرح وہ اپنی محبوب ترین چیز کے لئے ہجر میں تڑپتا ہو اور پھر اس کے آنے کی خبر اسے مل گئی ہو اور آنے کی خبر تو مل گئی ہو لیکن ابھی آیا نہ ہو اور پھر یہ خطرہ بھی محسوس کر رہا ہو کہ وہ آئے گا تو مجھے مل بھی سکے گا کہ نہیں۔وہ جو کیفیت ہے اس سے زیادہ شدید کیفیت ایک عارف باللہ کے دل میں لیلۃ القدر کے