خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 27
خطبات طاہر جلد ۳ 27 خطبه جمعه ۱۳؍ جنوری ۱۹۸۴ء رعونت کا سلوک کریں کہ اس نے ہماری عزت پر ہاتھ ڈال دیا ہے اس لئے ہم اسے معاف نہیں کر سکتے اب کبھی ، اس نے گھر نہیں بلایا اس نے فلاں وقت دعوت نہیں دی۔یعنی ایسے ایسے بھی مقدمات آئے ہیں کہ میاں بیوی کی آپس میں ناچاقی اور پھر میاں بیوی کے خاندان کی دوسرے خاندان سے ناچاقی اور کئی کئی سال تک پھٹ گئے ہیں دل اور ایک دوسرے سے ملنا جلنا بند ہو گیا اس لئے کہ بیوی کے ماں باپ نے اپنے فلاں عزیز کی شادی پر زبانی پیغام بھیج دیا تھا کہ ” آجانا کارڈ نہیں بھیجایا الگ رقعہ لکھ کر نہیں بھیجا، یہ آپ ہنس رہے ہیں کہ یہ بڑی جہالت ہے لیکن اس جہالت میں ہیں مبتلا لوگ۔اپنے اوپر جب پڑتی ہے بات تو اپنی عزت اتنی پیاری لگتی ہے آدمی کو کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی خاطر ہر حماقت جائز ہے۔تو آنحضرت ﷺ کو اللہ نے جوحکم دیا اس میں ساتھ یہ بھی فرمایا: وَأَعْرِضْ عَنِ الْجُهِلِينَ جاہلوں سے اعراض کرنا۔بڑے لوگ دنیا میں جاہل پھرتے ہیں۔تو عزت نفس بہت بڑا عذر سمجھا جاتا ہے بدلہ لینے کا اور معاف نہ کرنے کا۔تو آنحضرت ﷺ نے ایسے پیارے انداز میں اس کو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا اس کمزوری کو اور اس کا حل بھی پیش فرما دیا کہ دیکھو ایسے ایسے بھی خدا کے بندے ہیں جب ان کے پاس کچھ پیش کرنے کے لئے نہیں تھا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی خاطر ہم عزت پیش کرتے ہیں ، ہماری جو چاہو بے عزتی کر لو ہم آگے سے جواب نہیں دیں گے۔اور اس کے نتیجہ میں اللہ اتنا خوش ہوا کہ حضوراکرم ﷺ کو خود بتایا۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اپنا نقصان ہو اور باز نہ آرہا ہو کوئی اور اس کے نتیجہ میں دوسروں کا کوئی نقصان نہ ہو وہاں اصلاح کی شرط لازمی نہیں ہے، وہاں یہی تعلیم ہے کہ جتنا ہوسکتا ہے ممکن اتنا صبر کرتے چلے جاؤ اور اپنے حقوق کی ادائیگی سے غافل نہ رہو۔چنانچہ اس ضمن میں حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺکے میرے کچھ رشتہ دار ہیں اور میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ قطع تعلق کرتے ہیں۔یعنی میں تو ان کے سارے حقوق ادا کرتا ہوں رحمی رشتوں کے نتیجہ میں جو پیدا ہوتے ہیں اور وہ ان حقوق کو کاٹتے چلے جاتے ہیں، میں معاف کرتا ہوں اور وہ ظلم کرتے چلے جاتے ہیں، میں اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ بدسلوکی کرتے چلے جاتے ہیں۔اس صد الله