خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 26

خطبات طاہر جلد ۳ 26 خطبه جمعه ۱۳/ جنوری ۱۹۸۴ء اور کیسا پیارا رنگ ہے لوگوں کو نصیحت کرنے کا او أمرُ بِالْعُرْفِ پر عمل درآمد اس کو کہتے ہیں۔اس میں ایک اور پہلو کی طرف بھی توجہ دلا دی گئی کہ بہت سی جگہ عفو کی راہ میں عزت نفس حائل ہو جاتی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ باقی چیزیں تو چلو معاف ہو گئیں چوری کر لی یا کچھ تھوڑا سا نقصان پہنچا گیا لیکن میری عزت پر حملہ کرتا ہے یہ میں کس طرح معاف کر دوں ، اس کا تو میں نے بدلہ لینا ہے۔تو آنحضرت نے ہمیں مطلع کیا کہ عزت کے معاملہ میں درگزر کرنا، عزت پر جو ہاتھ ڈالتا ہو اس کو معاف کرنا یہ اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا ہے کہ اس نے اپنے رسول (ﷺ) کو خود خبر دی کہ اس شخص کی یہ نیکی میں نے قبول فرمالی ہے، مجھے بہت پسند آ گئی ہے اور آپ دیکھ لیں ہماری معاشرتی خرابیوں میں سے بہت سے خرابیاں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ عزت نفس کے معاملہ میں آکر لوگ کہتے ہیں کہ اس نے میری بے عزتی کی ہے ہم تو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ابھی چند دن ہوئے ایک خاندان کا جھگڑا آیا انہوں نے بڑے درد کا اظہار کیا دونوں طرف سے کہ جی ہمارے درمیان ناچاقی ہو گئی ہے، بڑے اکٹھے تھے ، بڑے محبت کا معاملہ تھا اور اب ہم الگ الگ ہو گئے ہیں، پھٹ گیا ہے خاندان ، دعا کریں۔میں نے کہا دعا کا معاملہ تو بعد کا ہے، پہلے یہ بتاؤ کہ یہ کیوں ہو رہا ہے آخر کیوں تم لوگ صلح نہیں کرتے ؟ تو جواب یہ دیا کہ جی اب کیسے صلح ہو سکتی ہے؟ انہوں نے تو بے عزتی کر دی ہماری۔گویا بے عزتی کے بعد صرف دعا ہی رہ جاتی ہے اور کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔حالانکہ دعا کی قبولیت کا اصول یہ ہے کہ جس صفت میں آپ اللہ کے مشابہ ہوں گے اس معاملہ میں آپ کی دعائیں قبول ہوں گی یہ آپ تجربہ کر کے دیکھ لیں بالا رادہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنائیں جس صفت کو آپ اپناتے ہیں اس صفت میں اللہ تعالیٰ آپ سے حیا کرے گا اور آپکی دعائیں ضرور سنے گا۔جو لوگ رب بنتے ہیں لوگوں کے ، ربوبیت اختیار کرتے ہیں وہ جب دعا کرتے ہیں اے خدا مصیبت پڑ گئی ہے ہم ضرورتمند ہو گئے ہیں ہماری مدد فر ما تو ہو کیسے سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ سنے، وہ تو ان کے کہے بغیر بھی سننے لگ جاتا ہے، ایسا پیار کا سلوک ان سے فرماتا ہے کہ جو دوسروں کی ضرورتیں پوری کر رہے ہوتے ہیں، ان کی ضرورت میں خود لگ جاتا ہے۔تو ہر صفت کے متعلق یاد رکھیں کہ جو کچھ آپ اپنے رب سے توقع رکھتے ہیں آپ کی دعا میں سنجیدگی اور سچائی پیدا نہیں ہو سکتی جب تک ویسا بنے کی کوشش نہ کریں۔آپ تو لوگوں سے اس قدر