خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 28

خطبات طاہر جلد۳ 28 خطبه جمعه ۱۳؍ جنوری ۱۹۸۴ء سے زیادہ کیا مضبوط کیس بنایا جاسکتا ہے اس بات کے لئے کہ رسول اللہ ﷺ اجازت دے دیتے کہ ہاں اب تم بھی شروع کرد و ویسے ہی۔بہت زبردست وکالت کی ہے اس شخص نے اپنے حق میں کہ مجھے اب اجازت دے دیں کہ میں بھی پھر ان سے وہی کروں جو وہ کرتے ہیں اور پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! اب بتائیں کہ کیا میں بھی ان سے ویسا ہی سلوک کر سکتا ہوں جیسا وہ مجھ سے کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں اس طرح تم سب چھوڑ دیئے جاؤ گے عجیب کلام ہے اتنی حکمت ہے اس میں ، اتنی گہرائی ہے، آپ سوچیں ذرا کہ اس فقرہ میں کیا فرما دیا آپ نے ! آپ نے فرمایا ان کو خدا چھوڑ چکا ہے تمہیں نہیں چھوڑا ہوا، کتنا ظلم ہوگا کہ تم سارے کے سارے چھٹ جاؤ خدا سے تم سب کو خدا متروک فرمادے، یہ نہ کرنا، کچھ تو خاندان کے لوگ ہوں جن سے اللہ پیار کا تعلق قائم رکھے ، ان کو بھی چھوڑ دیا تمہیں بھی چھوڑ دے گا، پھر تو تمہارا سارا خاندان ہلاک ہو جائے گا۔اکثر جو خاندانی جھگڑے ہیں ان میں ایک یہ وجہ ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ اب تو ہمارا حق ہو گیا ہے، اتنی زیادتی ہو چکی ہے کہ اب ہم آگے سے شروع کر دیں اور دونوں فریق چونکہ اپنے آپ کو مظلوم سمجھ رہے ہوتے ہیں اس لئے دونوں طرف سے یہ احساس بڑھتا چلا جاتا ہے اور کسی طرح صلح ہونے میں ہی نہیں آتی۔دیکھئے آنحضرت علی اللہ کیسا پیارا جواب دیتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں تم فضیلت کو اختیار کرو۔ان سے صلہ رحمی کرو کیونکہ جب تک تو اس حالت پر قائم رہے گا تیرے ساتھ اللہ تعالیٰ اسی طرح کا معاملہ فرمائے گا اور تیرا مددگار ہوگا۔تو اس سے بہتر اور کیا سودا ہوسکتا ہے کہ انسان سے انسان دکھ اٹھائے اور ظلم برداشت کرے اور اللہ کا پیار اس کے بدلہ میں حاصل کر رہا ہو اور اللہ کو اپنا مددگار بنا رہا ہو۔تو احمدی معاشرہ میں یہ باتیں داخل ہونے کی ضرورت ہے بڑی شدت کے ساتھ۔یہ کمزوریاں ہیں جنہوں نے ہمیں دکھوں میں مبتلا کیا ہوا ہے۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ساری دنیا کی تباہی اسی وجہ سے ہے کہ بدلہ لینے کا سلیقہ بھی انسان کو ابھی تک نہیں آیا۔اگر معاف نہیں کر سکتا تو بدلہ تو اس طرح لے جس طرح رسول اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی اور پھر عفو کا طریقہ نہیں سیکھا ، پھر مغفرت کا طریق نہیں سیکھا اور اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں مصائب پھیلے ہوئے ہیں اور یہ بیماریاں احمدی گھروں میں بھی داخل ہو چکی ہیں۔اگر احمدی گھر ان کو صاف نہیں کریں گے تو دنیا کے مصلح کیسے بن جائیں گے۔دنیا تو جواب دے گی کہ