خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 306
خطبات طاہر جلد ۳ 306 خطبہ جمعہ ۱۸ جون ۱۹۸۴ء مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيْنَ الْخَبِيثَ مِنَ الطب اب جا کر آخر پہ ساری بات کا راز کھول دیا گیا کہ آخر کیوں خدا یہ ایسا کر رہا ہے؟ مومنوں کو مصیبت پڑی ہوئی ، تکلیف میں مبتلا ، گریہ وزاری کرتے ، سینے چھلنی ہوئے ہوئے ، حال سے بے حال ہوئے ہوئے ہیں اور لکھوکھا گھروں میں کہرام مچا ہوا ہے درد کا اور خدا تعالیٰ یہ کیوں کرتا چلا جاتا ہے مہلت دیتا کیوں ہے؟ کیوں نہیں فور وہ اپنے جلال کا نشان دوسروں کو اور اپنے جمال کا نشان اپنوں کو دکھاتا ؟ فرماتا ہے اس لئے کہ اس کے پیچھے ایک حکمت ہے خدا تعالیٰ محض انسانی جذبات کی طرح یا انسانوں کی طرح جذبات میں کھیل کر فیصلے نہیں فرماتا اس کے ہر فعل کے پیچھے حکمتیں ہیں اور وہ اپنے بندوں سے جذبات کے اور پیار کے کھیل بھی کھیلتا ہے لیکن ان کے پیچھے بھی حکمتیں ہوا کرتی ہیں اس لئے خدا ایسا نہیں کرتا ہر گز ہو نہیں سکتا کہ مومنوں کو خدا اس حال میں چھوڑ دے جس پر تم ہو حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ یہاں تک کہ خبیث کو طیب سے جدا نہ کرلے۔یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سوسائٹی میں بعض نا پاک لوگ ، بعض منافقین بھی شامل ہو گئے تھے اور جس طرح بعض دفعہ آندھیوں کے وقت کمزور شاخوں کا امتحان آتا ہے، سوکھے ہوئے پتوں کا امتحان آیا کرتا ہے اور وہ جھڑ جایا کرتے ہیں وہی جن میں زندگی باقی ہوتی ہے وہی بیچتے ہیں۔پس یہ زلزلے اس لئے آتے ہیں کہ پاک لوگوں میں جو بد شامل ہو چکے ہیں وہ خشک ٹہنیاں جو ساتھ اٹکی ہوئی ہیں اور جو باقی درخت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں ان کو یہ زلازل اور یہ طوفان تو ڑ کران سے الگ کر دیں۔يَمِيْنَ الْخَيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ کا یہ وہ مضمون ہے جو ہمیشہ ہر نبوت کی دفعہ پورا ہوا ہے کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ خدا کی طرف سے کوئی آیا ہو اور یہ مضمون نہ کھول دیا گیا ہو اور اس میں ایک خوش خبری عظیم الشان ہے اور وہ خوش خبری ایک دلیل کا رنگ بھی رکھتی ہے۔وہ یہ دلیل بنتی ہے کہ جب بھی الہی جماعتوں پر ابتلا آتے ہیں تو ان کے بدان سے الگ ہوتے ہیں اور کبھی نیک ان سے الگ نہیں ہوتے اور جب دنیاوی جماعتوں پر ابتلا آتے ہیں تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوا کرتی۔چنانچہ یہ عجیب بات ہے کہ احمدیت پر جب بھی ابتلا آئے ہیں جھڑنے والے ہمیشہ وہ ہوئے ہیں جو یا تو جماعت کے پہلے معتوب تھے یا پیسے کھا کر پیسے نہیں دے رہے تھے اور جماعت نے