خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 307

خطبات طاہر جلد ۳ 307 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۸۴ء ان کو پکڑا تھا کہ ایسی بے ہودہ حرکتیں کیوں کر رہے ہو یا نظام جماعت کو تو ڑ کر دوسری بے ہودہ حرکتیں کرتے تھے یا شرا میں پی رہے تھے یا جوئے کھیل رہے تھے یا اور بدکرداریاں ان کے اندر آ گئیں تھیں اور وہ کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے اگر اور کچھ نہیں تو چندے دینے میں بڑے ست تھے اور جان نکلتی تھی ان کی پیسے سے علیحدگی کے لئے اور وہ کہتے تھے ہمیں اسی حال میں رہنے دو۔تو جب الگ ہوتے ہیں تو یہ لوگ الگ ہوتے ہیں اور جس جماعت سے اس قسم کے لوگ الگ ہوں اس کا نقصان کیسے ہوسکتا ہے؟ فرمایا اگر ابتلا کے نتیجے میں تمہارے طیب الگ ہونے شروع ہو جائیں تو پھر تو تمہارے لئے بڑے صدمہ کی بات ہوگی لیکن اگر طیب اور زیادہ مضبوط ہو جا ئیں اور ان کے ایمان بڑھنے لگیں اور وہ لوگ جو نا پاک اور گندے تھے تم میں سے تم جانتے ہو کہ تم میں سے وہ گندے تھے وہ الگ ہوتے ہیں تو پھر تمہارے لئے صدمے کا کیا موقعہ ہے؟ چنانچہ جماعت کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ اسی قسم کے کمزور الگ ہوئے ہیں بلکہ ایک موقع پر ایک غیر مبائع دوست نے بڑی عجیب بات کہی۔ربوہ تشریف لائے تھے تو مجھ سے بھی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے غیر مبائعین دوستوں کو یہ ایک بات بتائی میں نے کہا تم لوگ ایک بات محسوس نہیں کر رہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے میں سے جو جاتا ہے ربوہ کی طرف وہ بہت اچھا آدمی ہوتا ہے ماسٹر فقیر اللہ ہوئے ، یعقوب خان صاحب ہوئے ، مولوی غلام حسن صاحب پشاوری ہوئے۔وہ کہتے ہیں ایسے ہوتے ہیں وہ جن پر ہماری نظریں رشک سے پڑتی ہیں بڑے بڑے معزز ، بڑے بڑے صاحب مقام لوگ ہیں اور ان کی طرف سے جو آتا ہے وہ سزا یافتہ اور گندہ آتا ہے۔پیسے کھا کر بھاگا ہوا ، کسی اور گندگی میں مبتلا ناراض ہو کر جماعت ان کو الگ کرتی ہے اور تم اسے قبول کر لیتے ہو۔تو اس نے یہ بات کہنے کے بعد بڑی دلچسپ بات یہ کہی کہ گویا تم تو قادیانیوں کی بدرو ہو، ان کا گندہ پانی بہتا ہے تو تمہاری طرف آجاتا ہے اور تمہارا صاف پانی بہتا ہے تو ان کی طرف چلا جاتا ہے۔بہت پیاری بات اس نے کہی لیکن یہ در اصل کلام الہی میں موجود ہے اور ہمیشہ یہی واقعہ ہوتا ہے کہ ابتلاؤں کے وقت الہی جماعتوں کے گندے بہہ کر باہر نکلتے ہیں اور ابتلاؤں کے وقت ان سے زیادہ تعداد میں مخالفین کی جماعت کے بہترین دوڑ دوڑ کر اس طرف آرہے ہوتے ہیں۔اب یہ دونوں باتیں ایک عجیب شان کے ساتھ ان حالات میں پوری ہو رہی ہیں۔