خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 305
خطبات طاہر جلد ۳ 305 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۸۴ء بعض نوجوانوں نے روتے ہوئے ، بلبلاتے ہوئے ، سکیاں لیتے ہوئے مجھ سے کہا ہے کہ ہم سے برداشت نہیں ہوتا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دی جاتی ہیں، ہماری ذمہ داری ہے، ہمیں اجازت دیں ہم اپنا دل ٹھنڈا کریں لیکن بڑے مضبوط ہاتھوں سے میں نے ان کو روکا اور ایک نے بھی نافرمانی نہیں کی۔اس کو بھی صبر کہتے ہیں یعنی بے چارگی کا صبر نہیں ہے بلکہ غیر معمولی طاقت کے باوجود جب انسان جان کی بازی لگا دینے پر تڑپ رہا ہو اس وقت کوئی اصول کا مضبوط ہاتھ اس کو روک لے اور کہے کہ یہ نہیں ہوگا۔پس ایسے لوگ بھی صبر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ خود صبور ہے وہ بھی پکڑ سکتا ہے۔صبور ہونے کے نتیجہ میں جب وہ نہیں پکڑتا تو اس کو کہتے ہیں مہلت دینا۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ بندے کا صبر کہلاتا ہے اور جب صبر خدا کی طرف سے ظاہر ہو تو اسے ہم مہلت کا نام دے دیتے ہیں۔اس کے پس منظر میں ایک ہی قسم کے محرکات ہیں یعنی مومن کا صبر اور اللہ تعالیٰ کی مہلت دینا اور دونوں کے ایک ہی سے نتیجے ظاہر ہوتے ہیں یعنی مہلت کے نتیجے میں یہ لوگ بجائے اس کے کہ اپنے جرم سے باز آجائیں وہ اور زیادہ بڑھنے لگ جاتے ہیں اور صبر کے نتیجہ میں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کمزور لوگ ہیں ان کو رگید و جتنا چا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا اور خدا تعالیٰ خوش خبری دے رہا ہے مومنوں کو کہ جس طرح میرا مہلت دینا ان کے کسی کام نہیں آئے گا تمہارے صبر کے نتیجے میں ان کا شوخیاں دکھانا بھی کسی کام نہیں آئے گا۔ہم تو اس لئے یہ کرتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے کرنا ہے کر لیں ، ایک دفعہ کھلی چھٹی مل جائے ، حسرتیں اپنی نکال لیں کہ یہ بھی ہم نہیں کر سکے تھے اب یہ بھی کر کے دیکھ لیتے ہیں اب کس طرح بچیں گے، فرماتا ہے نتیجہ کیا نکلے گا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ لازماً ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہ الہام ہو اني مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهَانَتَک ( تذکره صفحہ ۲۷) کہ وہ جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا میں اسے رسوا کروں گا۔پس خدا کے بندوں کا صبر ان کی طرف سے نہیں ٹوٹتا بلکہ آسمان کی طرف سے ٹوٹا کرتا ہے ان لوگوں پر۔جتنا زیادہ وہ دکھ برداشت کرتے 2 ہیں ذلتوں پر اتنا ہی زیادہ آسمان کی طرف سے ان لوگوں پر ذلتیں برسائی جاتی ہیں یہ معنیٰ ہے وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ کا کہ تمہاری طرف سے تو ان کو ذلتیں نہیں پہنچیں گی لیکن وہ خدا جو عزتوں اور ذلتوں کا مالک ہے اس خدا کی طرف سے جب ان پر ذلتوں کی مار پڑے گی تو کوئی ان کو بچانہیں سکے گا۔