خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 25
خطبات طاہر جلد ۳ 25 خطبه جمعه ۱۳/ جنوری ۱۹۸۴ء آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا: خُذِ الْعَفْوَ وَأمُرُ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ (الاعراف: ۲۰) آنحضرت ﷺ تو مجسم عفو تھے۔خدا کی صفات میں رنگین تھے پھر آپ کو یہ حکم کیوں دیا گیا ہے، بظاہر یہ عجیب بات لگتی ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ بعض احکامات آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے دیئے جاتے ہیں اور ساری قوم مراد ہوتی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ پر سب کی نظر ہے۔آپ سے بے انتہا محبت ہے اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ جو بندہ مجھے سب سے پیارا ہے اس سے میں کیا توقع رکھ رہا ہوں اس طرح قوم کو ایک تلقین تحریص کی جاتی ہے نیکیوں کی۔تو یہ مراد نہیں تھی کہ آنحضرت ﷺ کو ضرورت تھی ، آپ تو نبوت سے پہلے ہی بے حد عفو کر نے والے تھے۔تو خاص طور امت محمدیہ کو غیر معمولی جب کسی نیکی کی طرف توجہ دلانا ہو یہ قرآن کا اسلوب ہے تو پھر آنحضرت مے کو انفرادی طور پر چلتا ہے اور آپ کو وہ حکم دیتا ہے تا کہ اس مرکز سے پھر انتشار ہو خیر کا۔آنحضرت کو یہ بھی فرمایا وَ أُمُرُ بِالْعُرْفِ اور بہترین رنگ میں عفو کی تعلیم بھی دو، عرف اس نیکی کو بھی کہتے ہیں جو معروف ہو، عام دنیا میں رائج ہو اور اس نیکی کو بھی کہتے ہیں جو نیکیوں میں بھی ایک نمایاں شان رکھتی ہو۔تو چونکہ عفو کا ذکر فرمایا ہے اس لئے اول معنی اس کا یہ ہوگا وَأُمُرْ بِالْعُرْفِ کہ عفو کے معاملہ میں بہترین تعلیم دو بنی نوع انسان کو۔اس ضمن میں چند احادیث میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ حضوراکرم ﷺ نے اس پر کیسے عمل فرمایا اور کس رنگ میں تعلیم دی۔الله صلى الله ایک مرتبہ آنحضور ﷺ نے تحریک فرمائی کہ صدقہ دو یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرو کچھ لوگ سونا لائے ، کچھ چاندی لائے ، کچھ غلہ لائے، کچھ کھجور لے آئے۔ایک شخص کے پاس اور کچھ نہیں تھا کھجور کے چھلکے ہی اُٹھا لایا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! میرے پاس تو یہی ہے، میں یہ حاضر کر دیتا ہوں۔یک شخص آیا اور عرض کیا میرے پاس تو یا رسول اللہ ! کچھ بھی نہیں ہے لیکن میں اپنی آبر وصدقے میں پیش کر دیتا ہوں اگر کوئی مجھ سے زیادتی کرے گا، مجھے برا بھلا کہے گا تو میں غصے نہیں ہوں گا۔اس آدمی کے کچھ لوگ بعد میں حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا تم میں سے ایک آدمی نے ایسا صدقہ کیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا ہے۔کتنی پیاری ہے یہ حدیث !