خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 303

خطبات طاہر جلد ۳ 303 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۸۴ء صلى الله تجھے وہ فرماتا ہے وَلَا يَحْزُنُكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ اے محمد ﷺ ائمۃ التکفیر جو کفر میں بہت زیادہ سعی کرنے والے ہیں وہ بھی تجھے کوئی دکھ نہ پہنچاسکیں یعنی اس میں ایک پیار کا بھی رنگ ہے کہ نہ پہنچا سکیں۔ جس طرح دعائیہ کلمہ ہوتا ہے تو خدا کی طرف سے تو دعائیہ کلمہ نہیں ہوتا اس کے لئے ہم کہیں گے پیار کا اظہار ہے۔ اور دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ ایک خوشخبری ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ تجھے نہیں پہنچا سکیں گے تکلیف ۔ فرماتا ہے ہرگز تجھے وہ لوگ جو تکفیر میں بہت آگے آگے ہیں اور پیش پیش ہیں وہ تجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچاسکیں گے۔ إِنَّهُمْ لَنْ يَضُرُّوا اللهَ شَيْئًا کیونکہ وہ لوگ خدا کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے ۔ کتنا عظیم الشان کلام ہے! صرف دعوی ہی نہیں اس کی دلیل ساتھ پیش کر دی گئی فرمایا کہ خدا کو تو تم جانتے ہو اور ہر انسان جانتا ہے کہ کوئی بندہ تکلیف نہیں پہنچا سکتا تو جو خدا کا ہو چکا ہو جو خدا کی خاطر دکھ اٹھانے کے لئے تیار بیٹھا ہو اس کو بھی وہ تکلیف نہیں پہنچا سکتے کیونکہ اس کو تکلیف پہنچانا خدا کو تکلیف پہنچانا ہو جایا کرتا ہے ۔ کس حسن کے ساتھ ان دونوں باتوں کو خدا سجا کے پیش فرماتا ہے لَا يَحْزُنُكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ تجھے ہرگز تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے جو کفر میں غیر معمولی سعی کرتے ہیں کیوں ؟ إِنَّهُمْ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا کیونکہ وہ خدا کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے يُرِيدُ اللهُ الَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیم اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے اور جب خدا چاہتا ہے تو لازماً وہی ہوتا ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ اور ان کے لئے ایک بہت ہی بڑا عذاب مقدر ہے۔ یہاں آخرۃ سے مراد صرف مرنے کے بعد کی دنیا نہیں ہے بلکہ آخرۃ سے مراد انجام ہے۔ فرماتا ہے تکلیف اگر وہ عارضی تجھے پہنچا بھی دیں اور بظاہر یہ معلوم ہو کہ اللہ والوں کو دکھ پہنچ گیا اور نقصان پہنچ گیا تو چونکہ خدا کو کوئی تکلیف نا کام نہیں کر سکتی اس لئے ثبوت اس کا یہ ہے صرف دعوی نہیں کہ انجام کار لاز مادہ نامراد اور ناکام رہیں گے۔ آخرت میں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے فِي الْآخِرَةِ بالآخر انجام کا ر لازماً ان کے مقدر میں نامرادی اور نا کا می لکھی گئی ہے۔ دیکھیں صرف دعوی ہی نہیں کرتا کیسا عجیب کلام ہے دلائل ساتھ دیتا چلا جا رہا ہے اور ایسے دلائل ہیں جن کے پیچھے ہزاروں سال کی