خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 304
خطبات طاہر جلد ۳ 304 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۸۴ء انسانی تاریخ گواہ بن کے کھڑی ہے۔ایک بات بھی ایسی نہیں جسے تاریخ سے غلط ثابت کیا جاسکے۔إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْإِيْمَانِ جیسا کہ میں نے کہا تھا اب ان لوگوں کا ذکر پھر آ گیا جو سوسائٹی کے اندر رہتے ہوئے شیطانوں کے اولیاء بنے ہوئے ہوتے ہیں ایسے موقع پر اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْإِیمَانِ وہ مرتد ہو جایا کرتے ہیں ، وہ کفر کے ساتھ ایمان کا سودا کر لیتے ہیں۔ہے یا ایمان کے ساتھ کفر کا سودا کر لیتے ہیں ایسے بھی لوگ ہیں جن کے متعلق خدا فرماتا لَنْ يَضُرُّوا اللهَ شَيْئًا ان کے متعلق بھی ہم تمہیں بتا دیتے ہیں کہ یہ اندرونی دشمن بھی ہرگز تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور آگے اس دلیل کو خدا کھول کر بیان فرماتا ہے کہ کیوں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے بلکہ نقصان کی بجائے فائدہ پہنچا جائیں گے۔وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِیم اور ان کے لئے ایک دردناک عذاب مقدر ہے۔فرماتا ہے وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لَّا نُفُسِهِمُ یہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ایک عرصہ تک وہ ضرور خوشیاں منائیں گے اور وہی مومنوں کی آزمائش کا دور ہے ، وہی دور ہے جس میں سچا مومن جھوٹے سے اور حقیقی مومن منافق سے الگ ہو جایا کرتا ہے۔فرماتا ہے یہ دور اس لئے ہے إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ کہ ہم انہیں مہلت دیتے ہیں لیکن ان کو یہ ہم بتادیتے ہیں کہ یہ مہلت ان کے لئے خیر کا موجب نہیں بنے گی۔کبھی خدا کی طرف سے دی ہوئی مہلت ظالموں کے لئے خیر کا موجب نہیں بنا کرتی۔مہلت کا جو مضمون ہے اس کا صبر سے بڑا گہرا تعلق ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ صبر اور مہلت جو حقیقی صبر ہے اور جو مہلت ہے وہ بعض جگہ جا کر ایک ہی مضمون کے دونام بن جاتے ہیں۔صبر کے دو پہلو ہیں ایک تو یہ کہ کمزور انسان جو بدلہ نہ لے سکے اگر بدلہ نہیں لے سکتا تو واویلا تو نہ کرے، کم سے کم بے اختیاری ہے تو اپنے زخموں کو لوگوں کے سامنے کھول کر خود اپنی جگ ہنسائی نہ کروائے یا اپنی بے چارگی کے چرچے نہ کرے۔یہ بھی صبر کا ایک پہلو ہے اور صبر کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اختیار کے باوجود طاقت کے با وجود انسان بے طاقتی کا اظہار کر رہا ہو یوں معلوم ہوتا ہو گویا وہ بے بس ہے لیکن کوئی دنیا وی بے بسی اس کو نہیں ہوتی۔گالی کا جواب کمزور انسان بھی گالی سے دے سکتا ہے اور بعض اوقات لوگ جان پر کھیل جانے کے لئے تڑپ رہے ہوتے ہیں برداشت نہیں ہوتا ان سے چنانچہ بیسیوں مرتبہ ایسا ہوا ہے ایک دفعہ نہیں کہ