خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 288
خطبات طاہر جلد۳ 288 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۸۴ء کریں ہمارے لئے اللہ میں شہادت نصیب کرے اور ہر طرف سے، گزشتہ کچھ عرصہ سے خاندان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بچوں کی طرف سے بھی بڑے دردناک خط آرہے ہیں کہ یہ دعا کریں اور ہمیں وعدہ دیں اپنا کہ جب آپ نے جان کی قربانی کا مطالبہ کیا تو پہلے ہمیں موقعہ دیں گے دوسروں کو بعد میں دیں گے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کا یہ بھی حق ہے کہ وہ قربانی کے ہر میدان میں آگے آئے۔چنانچہ ذہنی طور پر میں تیار ہوں اور میں نے بعض عہد کر لئے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ ان نوجوان بچوں کا اخلاص ضائع نہیں جائے گا لیکن ساری جماعت کا یہ حال ہے پاکستان کی ، بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو حیران ہیں کہ ایسا معجزہ ہم نے کبھی زندگی میں سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ ظاہر ہوگا۔وہ لوگ نہایت بیچارے جن کو ہم ردی سمجھتے تھے اس قدر جوش اور محبت اور اخلاص کے ساتھ جان دینے کے لئے تڑپ رہے ہیں کہ صرف ایک اشارے کی ضرورت ہے۔تو یہ جماعت کوئی مٹنے والی جماعت تو نہیں ہے۔کون دنیا کی طاقت ہے جو ایسی جماعت کو مٹا سکے جو ہر ظلم کے وقت زیادہ روشن ہوتی چلی جائے ، ہر اندھیرے پر اس کو نیا نور خدا کی طرف سے عطا ہو۔چنانچہ باہر کی جماعتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی اخلاص ، یہی جذبہ ہے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے مالی قربانی کی تحریک پیش کی تھی کہ یورپ میں سر دست دو یورپ کے مراکز بنانے کا ارادہ ہے کیونکہ سلسلے کے کام بہت تیزی سے پھیلتے چلے جارہے ہیں اور یہ چھوٹا سا رقبہ جو کسی زمانے میں بہت بڑی جگہ نظر آیا کرتی تھی یہ تو بالکل ناکافی ہو چکا ہے۔لنڈن کی جماعت کے لئے بھی نا کافی ہو چکا ہے کجا یہ کہ انگلستان یا یورپ کے ایک حصہ کا مرکز بنے اور پھر جو تبلیغ کے منصو بے نئے بن رہے ہیں عظیم الشان، ان کے لحاظ سے تو بہت بڑے بڑے کام ہونے والے ہیں، بہت بڑے بڑے دفاتر کی ضرورت ہے، مشینوں کی ضرورت ہے، کام کرنے والوں کی ضرورت ہے اس لئے لازماً ہمیں سر دست دو مرکز ضرور یورپ میں بنانے پڑیں گے وسیع پیمانے پر، ایک انگلستان میں اور ایک جرمنی میں پھر آہستہ آہستہ اور مراکز بن جائیں گے اور ایک ایک ملک کا ایک مرکز ہو جائے گا تو اس تحریک کے نتیجہ میں خدا کے فضل سے اب تک اگر چہ بہت سے احباب کے وعدے آنے والے ہیں لیکن جو سر دست وعدے آئے ہیں انگلستان کے وعدے ایک لاکھ اکانوے ہزار سات سو باون پاؤنڈ کے وصول ہو چکے ہیں اور مغربی جرمنی کی طرف سے پچاسی ہزار پانچ سو پچاس