خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد ۳ 287 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۸۴ء آج بھی ہمارے اوپر فضلوں کا سایہ بنی ہوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی دعا کا ذکر کر کے فرماتے ہیں: راه زهره ابدال ، بایدت ترسید على الخصوص ، اگر آه میرزا باشد در شین فارسی صفحه : ۲۱۰) که خبر داراے دشمن زمرہ ابدال کی آہوں سے تمہارے لئے خوف لازم ہے علی الخصوص اگر وہ میرزا کی دعا ہو جائے تو اس سے تمہیں ڈرنا چاہئے۔کتنا عظیم الشان کلام ہے! جب تک ایک اللہ تعالی کا بندہ جانتانہ ہو کہ خدا لازماً ہمیشہ ہر آن میرے ساتھ ہے اس وقت تک یہ کلام منہ سے نہیں نکل سکتا۔فرماتے ہیں کہ ابدال کی بد دعاؤں سے ڈرنا چاہئے ہر انسان کو لیکن ابدال میں سے بھی میں میرزا جس کا خدا سے ایسا پیار کا تعلق ہو اس کی بددعا کو کس طرح تم نظر انداز کر سکتے ہو؟ اس لئے احمدیت کے دوستوں کے حق میں، بالعموم انسان کے حق میں، بالعموم ان دشمنوں کے حق میں جو دوسرے درجہ کے دشمن کہلاتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بہت دعائیں کر گئے ہیں لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی بد دعا کر گئے ہیں اس لئے ہم بھی اگر کچھ کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ حیرت انگیز کام دکھائے گا۔یہ تو خبریں ہیں کچھ حال کی کچھ مستقبل کی اور حال کا غم کس طرح مستقبل میں خوشیوں میں تبدیل ہوگا یہ مضمون ہے لیکن حال کا غم حال کی خوشیوں میں بھی تو بدل رہا ہے اس کی طرف بھی تو توجہ کرنی چاہئے تا کہ دل حمد اور شکر سے لبریز ہو جائیں۔جماعت احمدیہ پر جب بھی مصیبت آئی ہے جتنی بڑی مصیبت آئی ہے اتنا ہی زیادہ جماعت نے ہمیشہ اخلاص اور وفا کا نمونہ دکھایا ہے۔حیرت انگیز جماعت ہے اس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں ہے۔کوئی دنیا کی جماعت ایسی نہیں ہے جس پر ایسے خطرناک ابتلا آئیں اور وہ اپنی وفا اور ایثار اور قربانی میں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جائے۔پس پاکستان میں بھی جماعت کا یہی حال ہے اور حیرت انگیز اخلاص کے اندر اضافے ہورہے ہیں۔جو خطوط آتے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ جو بعض دفعہ مسجد کی زیارت سے بھی محروم رہتے تھے وہ تہجدوں میں اٹھ کر گریہ وزاری کرتے ہیں اور اس کثرت سے دعاؤں کے خط آتے ہیں کہ دعا