خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 275

خطبات طاہر جلد ۳ 275 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۸۴ء نہیں۔عالم اسلام میں پھیلی ہوئی ساری جماعت ایک وجود ہے اس لئے پاکستان کا دکھ ہو یا کسی اور کا، جماعت احمدیہ کو ہر جگہ محسوس ہوگا اس لئے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جو پاکستانی نہیں ہیں وہ آرام سے بیٹھے ہیں وہ بھی اس تکلیف میں شامل ہیں۔اور دوسرا حصہ ہے اسلام کی بدنامی کا، یہ سارے مظالم کرتے اپنے نام پہ کرتے۔بڑے بڑے ڈکٹیٹر دنیا میں آئے بڑے بڑے ظالم دنیا میں پیدا ہوئے ہیں انہوں نے بڑی جرات اور اخلاقی ہمت کا حو صلے کا مظاہرہ کیا ہے اس معاملہ میں صرف انہوں نے کہا کہ ہاں ہم یہ کرتے ہیں اپنے نام پر کرتے ہیں اس مذہب کو بدنام کرنا جو دنیا کا سب سے بڑا محسن ،سب سے بڑا حو صلے والا مذہب ہے اور اس کا دکھ سب سے زیادہ جماعت احمدیہ کو ہے۔جب اسلام بدنام ہوتا ہے تو کئی قسم کی مصیبتیں جماعت احمدیہ کے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں۔ایک سو سال گزر گئے ہیں ہمیں یہ جدو جہد کرتے ہوئے، دنیا کو یہ سمجھاتے ہوئے کہ اسلام ظالم مذہب نہیں، اس کا تلوار سے کوئی تعلق نہیں، تلوار ہمیشہ غیروں نے اٹھائی ہے اس لئے غیروں سے پوچھو کیوں انہوں نے جبر کے ساتھ اسلام کو دبانے کی کوشش کی تھی؟ اسلام نے تلوار اٹھانے میں پہل نہیں کی۔بیسیوں سال کی محنتیں اچانک یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک دم غائب ہو گئیں، ان کا وجود باقی نہیں رہا، ایک ظالم ہاتھ اس کو مٹا کے رکھ دیتا ہے جب کوئی اٹھتا ہے اسلام کے نام پر جبر کی تعلیم لے کر اور جبر کی تعلیم دے کر اور اس کے عملی نمونے دکھا کر۔تو یہی احمدی جو مظلوم ہیں جو جبر کا نشانہ بنائے جار ہے ہیں ان پر سب سے بڑا ظلم اس وقت ہوتا ہے جب یہ غیر کو تبلیغ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تم اپنا حال تو دیکھو تم کہاں کھڑے ہو؟ کس اسلام کی طرف ہمیں بلا رہے ہو؟ یہ اسلام کہ جس نے یہ حال کر رکھا ہے کہ تمہارے سارے حقوق کو پامال کر دیا ؟ ہم ان سے کہتے ہیں کہ نہیں یہ اسلام نہیں ہے جس کی طرف ہم تم کو بلا رہے ہیں ہم تم کو اپنے آقا اور مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اسلام کی طرف بلا رہے ہیں جو تمام رحمتوں کا سرچشمہ تھا جس نے ایسے دکھ برداشت کئے کہ کبھی کائنات میں کسی جان نے اتنے دکھ اپنی جان پر نہیں لئے تھے۔ہم اس پاک وجود کے اسلام کی طرف تمہیں کو بلاتے ہیں لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہاں تم ماضی میں بسنے والے لوگ ہو اس حال کا اس دور کا اسلام تو مختلف ہے۔پس ہمیں ہر طرف سے وار پڑتے ہیں، ہر طرف سے دکھ محسوس ہوتا ہے لیکن ہم کہتے چلے جاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بالآخر