خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 274

خطبات طاہر جلد ۳ 274 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۸۴ء اس کثرت سے مجھے خط آتے ہیں اور وہ رو رو کے عرض کرتے ہیں لوگ کہ ہم کیا کریں آپ نے حکم دے رکھا ہے باندھ دیا ہے ہمیں کہ دعا کریں لیکن اتنے دردناک حالات ہیں کہ دعا نکلتی نہیں اور ہمیں یوں لگتا ہے جیسے ہم جرم کر رہے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے جب ان باتوں کو دیکھتے ہیں تو اس کا جو دوسرا پہلو ہے وہ اتنا خطرناک ہے کہ اسکو مد نظر رکھ کر دعا نکلتی نہیں ہے دل سے۔چنانچہ آپ تصور کیجئے کہ پاکستان کا نام کبھی دنیا میں اتنا بدنام نہیں ہوا تھا جتنا آج اس دور میں بدنام ہوا ہے۔ہر دوسرے ملک کی بدنامی کو اس نے پیچھے چھوڑ دیا ہے اور کہتے یہ ہیں کہ احمدی بدنام کر رہے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ احمدی تو بد نامی کا دکھ برداشت کرنے کے لئے زندہ ہیں۔بد نام تو وہ کر رہے ہیں جو بڑے فخر سے سرخیاں جما رہے ہیں اخباروں میں، ہر روز کالے ہوئے ہوئے ہیں اخباروں کے منہ بڑے فخر کے ساتھ کہ اس طرح ہم نے نعشیں اٹھا کر باہر پھینکیں ، اس طرح ہم نے بڑھوں کو مارا۔جب وہ چاقو مار رہے تھے ایک بڑھے کو جو پچھتر سال سے بڑی عمر کا تھا جس کو نظر نہیں آتا تھا آنکھوں سے تو اس طرح نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوئے۔چار پانچ آدمیوں نے باری باری ثواب کی خاطر ان کے جسم میں چاقو ا تارے اور پھر بسم سے وار کیا اور ہر آدمی نعرہ تکبیر بلند کرتا تھا کہ اس بڑھے بیچارے اندھے کو جس کو نظر بھی نہیں آتا اس کو مار کر ہم نے اتنی عظیم الشان اسلام کی خدمت کر لی اور یہ واقعات فخر سے اخباروں میں شائع ہورہے ہیں، اب تو کیفیت یہ ہے۔ے ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو تمہاری دوستی کافی ہے قوموں کو تباہ کرنے کے لئے ، تمہاری ہمدردیاں کافی ہیں اپنوں کو ہلاک کرنے کے لئے اس لئے جماعت احمدیہ کو کیا ضرورت ہے کہ تمہیں بدنام کرے، بڑے بدنام کرنے والے مقرر ہیں جو ہر روز بد نام کرتے چلے جارہے ہیں اور ان کا پیٹ نہیں بھر رہا ان کا دل ٹھنڈا نہیں ہورہا۔تو جس کو پاکستان سے محبت ہے احمدیوں میں سے وہ ویسے تکلیف اٹھائے گا کیونکہ وہ پاکستانی ہے لیکن جو پاکستانی نہیں ہے وہ بھی تکلیف اٹھا رہا ہے کیونکہ احمد بیت اس اسلام کا نام ہے جس کی تعریف حضرت محمد مصطفی ﷺ نے یہ فرمائی تھی کہ ایک بدن کی طرح ہے اس کے کسی دور کے حصے کو بھی ایک چھنگلی کو بھی اگر کانٹا چبھ جائے تو سارا بدن بے قرار ہو جاتا ہے یہ تو نہیں کہا جاتا کہ یہ چھنگلی فلاں میز پر پڑی ہوئی ہے یا فلاں کے گھر میں داخل ہو گئی تھی اس لئے مجھے اس کا کوئی غم