خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 276

خطبات طاہر جلد۳ 276 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۸۴ء ہماری آواز کو اللہ مزید طاقت بخشے گا یہ آواز غالب آئے گی اور وہ اسلام زندہ ہو گا جو حضرت محمد مصطفیٰ کا اسلام ہے، وہ اسلام زندہ ہو گا جب وہ مکہ میں داخل ہور ہا تھا تو ان لوگوں میں داخل ہور ہا تھا جنہوں نے جرائم کی حد کر دی تھی ، ایسے خوفناک جرائم ایسے ہولناک دکھ مردوں اور عورتوں بچوں کو دیئے گئے کہ آج بھی جب تاریخ میں ان کو پڑھتے ہیں تو لرزہ طاری ہو جاتا ہے بدن پر۔140 درجہ کی دھوپ میں سنگلاخ زمینوں پر لٹا کر اوپر پتے ہوئے پتھر رکھے گئے ، کتوں کی طرح رسیاں باندھی کر ٹانگوں کے ساتھ ان کو پتھریلی زمینوں پر گھسیٹا گیا، عورتوں کو خو د پہنا کر گرمی کی شدت میں کھڑا کر دیا گیا اور کہا یہ گیا کہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھنا۔آج یہی مطالبہ جماعت احمدیہ سے ہو رہا ہے آج یہ کہا جا رہا ہے کہ اپنے ہاتھ سے لا الہ الا اللہ مٹا دو کیونکہ ہمیں غصہ آتا ہے دیکھ کر کلمہ لا الہ الا اللہ لکھا ہوا۔اس دور کی باتیں ہیں آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اس دور میں ہوسکتا ہے لیکن ہو رہا ہے۔بہر حال یہ جرائم تھے جو مکہ میں کئے گئے ، بچوں کو ماؤں سے جدا کیا گیا، ماؤں کو بچوں سے جدا کیا گیا ،نمازیں تکلیف دیتی تھیں اتنی کہ بعض جگہ گھروں میں گھس کر روکا گیا ز بر دستی نمازوں سے اور آج یہی کراچی میں ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے تو ہم یہ کہتے تھے کہ مسجدوں میں نہیں پڑھنے دیں گے اب تم اپنے گھروں میں اپنی لائبریریوں میں نمازیں پڑھتے ہو؟ تمہارا کیا حق ہے نمازیں پڑھنے کا۔کوئی ایک واقعہ نہیں ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے زمانہ میں ہوا ہو آج جسے دو ہرایا نہ گیا ہو لیکن اُن مظالم کی بستی میں جب حضرت محمد مصطفی ملے واپس تشریف لے کر گئے تو ہم لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ہم تو اس اسلام کے علمبر دار ہیں۔جب آپ واپس تشریف لے کے گئے دنیا کے فاتحین کی طرح آپ کا سر فخر سے بلند نہیں تھا بلکہ روتے روتے ہمارے مقدس آقا کی گردن جھک گئی اور سواری کی پیٹھ سے لگ گئی کہ گردن سے لگ گئی بے حد گر یہ آزاری کر رہے تھے اور خدا کے حضور جھک رہے تھے۔اس شان کا فاتح تھا ، یہ تھا وہ اسلام کا وہ علمبردار جس کی طرف ہم تم کو بلاتے ہیں۔اس شہر میں داخل ہوا جہاں وہ لوگ بستے تھے جنہوں نے آپ کے چا کو شہید کروایا اور پھر سینہ پھاڑ کے جگر چبالیا، وہ جب اس بستی میں داخل ہورہے تھے تو یہ اعلان فرما رہے تھے لا تشریب علیکم الیوم کوئی غم نہیں، کوئی تمہیں فکر نہیں ، میری طرف سے تمہیں کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔وہ بلال جسے گلیوں میں گھسیٹا جاتا تھا اس کا جھنڈا بلند کیا گیا اور کہا کہ آج جو بلال کے جھنڈے تلے آجائے گا اس کو بھی معاف کر دیا جائے گا۔