خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 22
خطبات طاہر جلد ۳ 22 خطبه جمعه ۱۳/ جنوری ۱۹۸۴ء تو اگر دنیا میں سچا امن قائم کرنا چاہتے ہو تو ا ز ما ان تین چیزوں کو اختیار کرنا پڑے گا۔سب سے پہلے جرم سے بڑھ کر سزا نہ دینا۔دوسرا عفو کرنا یعنی جرائم دیکھنا اور آنکھیں پھیر لینا گویا وہ تھے ہی نہیں ، اور تیسرا جرائم اگر بڑھ چکے ہوں اور انسان مرتکب ہو چکا ہو اور سزا کا حق رکھتا ہو پھر بھی اس سے بخشش کا سلوک کرنا۔یہ قومی تعلیم صرف نہیں ہے بلکہ انفرادی بھی ہے اور ا ہلی زندگی اور عائلی زندگی کو جنت بنانے کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جوا کثر ہمارے گھروں میں دکھ پھیلے ہوئے ہیں، مصیبتیں ہیں ،لڑائیاں ہیں، ماحول تباہ ہو رہا ہے ، اس کی ایک وجہ یہی ہے جس طرح ساری دنیا کا امن برباد ہو چکا ہے اس تعلیم کو بھلانے کے نتیجہ میں عفو کے نہ ہونے کے نتیجہ میں اسی طرح گھروں کی تباہیاں بھی عفو کے نہ ہونے کے نتیجہ میں ہیں۔بعض بیویاں یہ ثابت کرنے کے بعد کہ خاوند نے یہ غلطی کی ہے وہ مجھتی ہیں کہ اب اس کے بعد لازم امیر افساد کرنا ضروری ہو گیا ہے۔چونکہ وہ غلطی کرتا ہے اس لئے اب مجھے حق ہے فساد کا اور میں ضرور کروں گی۔اور جب وہ فساد کرتی ہے تو اتنا نہیں کرتی جتنا خاوند کی غلطی تھی اس سے چار قدم آگے بڑھ جاتی ہے۔اوپر سے کہتے ہیں جیسی روح ویسے فرشتے ، پھر ان کو خاوند بھی بعض ایسے ملے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں اچھا اب تم بولنے پر آئی ہو تو میں پھر تمہیں چار تھپڑ نہیں بلکہ سولہ تھپڑ ماروں گا تمہیں۔ایک گھر جو جنت کے لئے بنایا گیا جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس لئے پیدا کیا گیا کہ تمہیں سکینت ملے وہ جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔یعنی پہلا قدم ہی سوسائٹی میں نہیں اٹھایا گیا، عفوتو بعد کی بات ہے، پہلے یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ جتنا جرم ہوا گر تم معاف نہیں کر سکتے تو کم سے کم اس سے آگے نہ بڑھو۔تو اگر احمدی اپنے گھروں کو جنت کا نمونہ بنانا چاہتے ہیں تو اس بات کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھ جائیں۔اگر وہ کسی قیمت پر معاف نہیں کر سکتے اور ایک احمدی سے یہ توقع میں نہیں رکھتا کہ وہ اس ادنی درجہ پر آکر ٹھہر جائے ، انہوں نے تو دنیا میں بڑے بڑے کام کرنے ہیں ساری دنیا کو اخلاق حسنہ سکھانے ہیں۔آنحضرت ﷺ کے مکارم الاخلاق سے آشنا کرنا ہے یہ کوئی رتبہ ہے ان کا کہ چھوٹی سے چھوٹی بات پر جس کو قرآن کراہت کے ساتھ قبول کر رہا ہے اس پر اٹک کر بیٹھ جائیں کہ ہمارے لئے یہی کافی ہے؟ ان کے متعلق تو میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ایک موقع پر آنحضرت ﷺ کی خدمت