خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 21

خطبات طاہر جلد ۳ 21 خطبه جمعه ۱۳؍ جنوری ۱۹۸۴ء ظلم کیا ہے اس سے زیادہ ظلم کریں گے اور تو ڑ کر رکھ دیں گے اس سے دنیا کو ظلم سے نجات دیں گے تو یہ ترکیب نہیں چلے گی، نہ پہلے بھی چلی ہے نہ آئندہ چل سکتی ہے کیونکہ قرآنی تعلیم کے مخالف ہے۔اس کو کہتے ہیں ایسی تعلیم جوزور بازو سے منوا لیتی ہے قوموں کو اپنی فضیلت کو اور مجبور کر دیتی ہے مخالفین کو بھی کہ اس سے بہتر دیکھا ہی کچھ نہ سکیں۔حیرت انگیز کتاب ہے یہ کوئی عقل دنیا کی کوئی Logic ، کوئی تاریخ کا تجر بہ اس کی تعلیم کو جھٹلا نہیں سکتا۔لیکن اس خطرہ کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس بات کی فکر نہ کرو کہ اگر تم ظلم کا بدلہ اس سے بڑھ کر نہیں لو گے تو تم سے کیا ہوگا۔فرمایا چونکہ ہم تمہیں یہ تعلیم دے رہے ہیں ہم اس بات کے ضامن ہیں اور اس ضمانت میں قرآن کریم کی تعلیم کا حسن یہ ہے کہ کا فراور مومن میں کوئی فرق نہیں کیا، انسان کو بحیثیت انسان مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر تم ظلم کے بدلہ میں زیادتی سے کام نہیں لو گے اور وہاں ٹھہر جاؤ گے جہاں تک ظلم پہنچا تھا ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھو گے تو تمہیں یہ جو خوف لاحق ہے کہ وہ تمہارے اوپر بغاوت کرے گی وہ قوم اور دوبارہ تمہیں تباہ کر دے گی فرمایا اس کے ہم ضامن ہیں۔اتنی حیرت انگیز ضمانت ہے کہ حیران ہوتا ہے قرآن کریم کو انسان پڑھ کر کہ ساری دنیا کو مخاطب کرتا ہے اور ساری دنیا کی ایسی ضمانت دیتا ہے جس کی کوئی مثال کہیں کسی کتاب میں نظر نہیں آتی فرمایا: ذلِكَ ۚ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهِ ثُمَّ بُغِى عَلَيْهِ (الحج : ۶۱) لَيَنْصُرَنَّهُ اللهُ إِنَّ اللهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ تم بڑے بے وقوف ہو جو اس بات سے ڈر رہے ہو کہ اگر تم نے ظلم کے بدلہ میں زیادتی نہ کی تو یہ قوم اٹھ کھڑی ہوگی اور تمہارے خلاف بغاوت کرے گی اور پھر تمہیں کمزور دیکھ کرتم پر قابض ہو جائے گی ، یہی خطرہ ہے تمہیں؟ فرمایا لَيَنْصُرَنَّهُ الله اگر ہماری خاطر تم ظلم سے رکو گے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ یقینا اللہ تمہاری مدد فرمائے گا۔اور یا درکھو کہ یہ تو ادنی سی بات ہے جس کی توقع تم سے رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اِنَّ اللهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ خدا تو عفو کر نے والا ہے اور عفو کے بعد بخشش بھی کرنے والا ہے یعنی صرف نظر کے بعد جو گناہ بچ جاتے ہیں ایسے کہ ان کی سزا دینی پڑتی ہے عام حالات میں یا سزا کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے، ان سے بھی وہ بخشتا ہے۔