خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 23

خطبات طاہر جلد ۳ 23 خطبه جمعه ۱۳؍ جنوری ۱۹۸۴ء میں ایک ایسا شخص حاضر ہوا جس کا کوئی عزیز قتل ہو گیا تھا، وہ اس کا ولی تھا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسی کو معاف کر دو۔اس نے کہا نہیں میں معاف نہیں کر سکتا۔آپ نے فرمایا دیت لے لو۔اس نے کہا یارسول اللہ ! میں یہ بھی نہیں کر سکتا۔آپ سنپھر اس کو نصیحت فرمائی ، اس نے پھر اعراض کیا۔آپ نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے پھر تم اپنابدلہ لو اور بعد میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو یہ کر رہا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے عفو سے اپنے آپ کو محروم کر بیٹھا ہے یہ شخص۔وہ بڑے زور شور سے بدلہ لینے جارہا تھا پیچھے سے ایک صحابی دوڑا اور اس نے کہا ،سنا ہے تم نے کہ تمہارے متعلق رسول صلى الله کریم ﷺ نے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔اس نے کہا یہ فرمایا ہے۔اس نے کہا اگر ایسا فرمایا ہے تو میں اپنا بدلہ نہیں لیتا، میں باز آتا ہوں، تو یہ ہے آنحضرت ﷺ کی توقع اپنی امت سے۔یہ خیال غلط ہے کہ یہ مسلمانوں کے لئے تعلیم ہے۔میرا نظریہ یہ ہے کہ چونکہ سارے عالم کو قرآن کریم مخاطب کرتا ہے اور بنی نوع انسان اس کے کم از کم مخاطب ہیں اس لئے قرآن کریم ہر قسم کی تعلیم اپنے اندر رکھتا ہے اور یہ عام بنی نوع انسان سے توقع ہے کہ کم از کم اتنا تو کریں کہ اگر وہ انسانیت کو دکھوں سے بچانا چاہتے ہیں تو جب بدلہ لیں تو اتنا ہی لیں جتنا کہ قصور کیا گیا ہے اس سے آگے نہ بڑھیں لیکن امت محمدیہ کی یہ شان نہیں ہے۔ہاں اگر وہ اتنا ہی کریں تو اس پر کسی کو طعنہ زنی کا حق نہیں رہے گا، یہ الگ بات ہے یعنی وہ شامل تو ہیں اس میں لیکن بنی نوع انسان کے ایک عام فرد کے طور پر۔اُمت محمدیہ کے لحاظ سے جو ان کی شان ہے وہ اس سے بہت بالا ہے، وہ تو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کے نمونے ہی ہیں۔آپ نے ان آیات سے جو سمجھا اس کے بعد اپنی زندگی میں جو علی تفسیر فرمائی ہمارے لئے تو وہی ہے، تو بہر حال ایسے لوگ بھی ہیں جو گھروں کو جنت کی بجائے جہنم میں بدلتے ہیں، معاف نہیں کر سکتے۔لیکن کم از کم انسان تو بہنیں ، قرآن جو انسانیت کے متعلق ادنی توقع رکھتا ہے وہ تو دکھا ئیں، اگر وہ معاف نہیں کر سکتے تو پھر جتنا جرم ہے اس سے آگے نہ بڑھیں لیکن افسوس ہے کہ بہت سی خرابیاں اس وجہ سے ہیں کہ بدلہ بھی لیتے ہیں اور پھر ظلم کرتے ہیں بدلہ کے وقت۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی ہمارے بیوی اور بچوں نے ظلم کئے ہیں اور یہ یہ حرکتیں کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ٹھیک ہے ہمیں علم ہے کہ تمہاری بیویوں میں سے تمہاری اولادوں میں سے تمہارے دشمن بھی ہیں یعنی عام کمزوریاں تو الگ ہیں ، خدا تعالیٰ کے علم میں ہے کہ تم سے دشمنی کرنے