خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 272
خطبات طاہر جلد ۳ 272 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۸۴ء اہے بچہ اس کا ہے اس کو دے دیں اس کے دو ٹکڑے نہ کریں ، تو آج تو ہمارا یہ حال ہے کہ جھوٹی ماؤں کے مقابل پر اپنے بچے فدا کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ پسند نہیں کریں گے کہ ہمارا وطن ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے خواہ ہمیں اس وطن سے بے وطن ہی کر دیا گیا ہو اس لئے حالات بہت خطر ناک ہیں اور ابھی بہت زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے۔ملک ایک ایسے دور میں داخل ہو گیا ہے جو دنیا کی نظر میں تمسخر سے بھی آگے معاملہ بڑھ چکا ہے۔جب بتائی جاتی ہیں باتیں لوگوں کو یا اخبار دکھائے جاتے ہیں پاکستان کے جن میں بڑے فخر سے بعض اعلانات چھپ رہے ہیں تو لوگ مانتے نہیں، وہ کہتے ہیں دیکھو اس طرح نہ کرو جھوٹ کی بھی تو حد ہونی چاہئے ، یہ بھی ہوسکتا ہے آج کے زمانے میں! چنانچہ ایک جگہ ایک معاملے میں ایک شخص نے اپنے حالات پیش کئے تو اس کا آفسر تھا جس کے سامنے حالات پیش ہو رہے تھے اس نے کہا کہ دیکھو دیکھو بس کرو اس سے زیادہ تو یقیناً جھوٹ ہے اگر تم نے جھوٹ شامل کر دیا تو تمہارا کیس خراب ہو جائے گا۔اس نے کہا کہ یہ تو ابھی سارا ہے ہی نہیں یہ تو معمولی چند باتیں ہیں، اس نے کہا کہ میں تو مان ہی نہیں سکتا کہ یہ ممکن ہے یہ ہو سکتا ہے کسی زمانے میں، یہ صدی کونسی ہے، تم باتیں کس زمانے کی کر رہے ہو۔چنانچہ خدمت اسلام بھی نئے نئے ادوار میں داخل ہوئی ہے۔ابھی چند دن پہلے کراچی میں تین بڑھوں کو جو چھتر سال سے زائد عمر کے تھے جن کو میں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں، وہ بیچارے تو ایک چڑیا کا دل بھی کھانے کے قابل نہیں ، نہایت دعا گو اور سادہ مزاج لوگ ، ان کو ملک کے خلاف باغیانہ کوششوں اور نہایت ہی خوفناک اشتعال انگیزیوں کے جرم میں قید کر دیا گیا اور وجہ؟ وجہ یہ کہ بس میں سفر کر رہے تھے اور ساتھ ہی ان کے ایک ایک آدمی بیٹھا۔اس نے جب وہ اترے تو دیکھا کہ کس گھر میں جا رہے ہیں اور باتوں میں اسکو پتہ چل چکا تھا کہ یہ احمدی ہیں چنانچہ جا کر پولیس کو رپورٹ کی کہ فلاں گھر میں تین چھاپہ مار گھسے ہیں نہایت ہی خوفناک قسم کے اور وہ احمدی ہیں اگر ان کو نہ پکڑا تو ملک تباہ ہو جائے گا۔چنانچہ فوراً تھانیدار نے کوئی ( تاخیر کے بغیر کاروائی کی ) ، اس معاملے میں تو اتنی ہمدردی ہے ملک سے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہر دوسرے معاملے میں ہمدردی کا فقدان ہے لیکن احمدیت کو ظلم کے معاملے میں بڑی گہری ہمدردی پیدا ہو چکی ہے ملک سے اور اسلام سے یعنی اس فرضی ملک اور فرضی اسلام سے جس کی وہ اس وقت پوجا کر رہے ہیں۔تو یہ حالات ہیں اور کوئی کسی کو حیا نہیں کوئی شرم نہیں کہ ان لوگوں کو