خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 271
خطبات طاہر جلد ۳ 271 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۸۴ء ذلیل اور نامراد کر کے مٹادی گئی تھی یہ مخالفت بھی اس سے بڑھ کر شدت کے ساتھ ذلیل اور نامراد کر کے مٹادی جائے گی۔آپ زندہ رہیں گے اللہ کے فضل سے اور دیکھیں گے کہ ایک ایک شکوہ جماعت کا دور کیا جائے گا، ایک ایک دکھ کو خوشی میں تبدیل کیا جائے گا لیکن خطرہ یہ ہے کہ اس وقت جو حالات ہیں اس کے نتیجہ میں اگر سابقہ تقدیر خدا کی چلے تو قوم پر بڑے ہی عذاب کے دن آنے والے ہیں، بہت ہی دکھ کے دن مقدر معلوم ہوتے ہیں سابقہ اللہ کی تقدیر تو یہی ہے کہ جو مخالفت کی گئی جو بدا را دے لے کر لوگ اٹھے وہ ان پر الٹائے گئے۔فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِة (الفجر: ۱۴-۱۵) صَبَّ عَلَيْهِمُ میں جو الٹانے کا نقشہ ہے وہ ہم نے اپنی آنکھوں سے بارہا پورا ہوتے دیکھا ہے۔ہر وہ کوشش جو جماعت کے خلاف کی گئی بعینہ برعکس نتیجہ لے کر مخالفین کے خلاف ظاہر ہوئی اس لئے اب جو کوششیں ہیں وہ بہت ہی زیادہ گندی اور ناپاک ہیں۔حالت یہ ہے کہ وہ لوگ جو وطن بنانے والے تھے ، جو صف اول کے شہری تھے ان کو اپنے ہی وطن میں بے وطن کر دیا گیا ہے۔اگر یہ حالت تبدیل نہ ہوئی تو ناممکن ہے کہ یہ سزا اس قوم کو نہ ملے جو مظلوموں اور معصوموں کو یہ سزا دے رہی ہے۔یہ ہے جو سب سے خوف ناک اور ہولناک بات ہے جس سے انسان کا دل لرزنے لگتا ہے۔ان کو تو ہمارے بے وطن ہونے کا کوئی غم نہیں لیکن ہمیں ان کے بے وطن ہونے کا بہت غم ہو گا۔ہم ان سے سچا پیار کرنے والے ہیں۔اپنے وطن سے سچا پیار کرنے والے ہیں۔ہماری مثال تو اس ماں کی سی ہے جس کا ایک جھوٹی ماں سے جھگڑا ہوا بچے کی ملکیت کے متعلق اور وہ دونوں مائیں جھگڑتی ہوئیں حضرت سلیمان کے حضور حاضر ہوئیں۔ایک یہ کہتی تھی دعوے دار ماں بننے کی کہ یہ بچہ میرا ہے اور دوسری کہتی تھی کہ یہ بچہ میرا ہے اور دونوں ہی بڑا واویلا کرتی تھیں اور بظا ہر روتی تھیں اور کہتی تھیں کہ ہم اس بچے کے بغیر رہ نہیں سکتے۔اس وقت حضرت سلیمان نے جو حکمت کے ایک خاص مقام پر فائز کئے گئے تھے یہ فیصلہ فرمایا کہ بہت اچھا چونکہ فیصلہ کرنا مشکل ہے اس لئے اس بچے کو نصف سے دو ٹکڑے کر دیئے جائیں اور آدھا ایک ماں کے سپرد کر دیا جائے اور آدھا دوسری ماں کے سپرد کر دیا جائے تب جو حقیقی ماں تھی وہ زار زار رونے لگی اور اس نے کہا کہ میرے آقا میں جھوٹ بولتی تھی بچہ میرا