خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 273

خطبات طاہر جلد ۳ 273 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۸۴ء جن کے چہروں سے معصومیت ٹپکتی ہے انہوں نے کیا ظلم ڈھانے تھے اور کون سی قیامت برپا کر دینی تھی اس ملک میں ، یہ بھی خدمت اسلام کے سنہری کارنامے نئے لکھے جارہے ہیں اور خدمت اسلام کے سنہری کارنامے یہ بھی لکھے جارہے ہیں ، ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے کہ سندھ میں ایک احمدی کو اس جرم میں قید کیا گیا ہے کہ وہ ہندؤں میں تبلیغ کر رہا تھا۔عقل کی کوئی حد ہونی چاہئے ، یعنی بے عقلی کی کوئی حد ہونی چاہئے یہاں تو اس قسم کا معاملہ الٹ چکا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ حسد اور غیض نے قبضہ کر لیا ہے دماغوں پر کچھ باقی نہیں رہا، ایک آگ لگی ہوئی ہے حسد کی کہ جب تک جماعت کا کوئی شخص زندہ ہے ہمیں چین نہیں نصیب ہوگا یعنی خدمت اسلام کا یہ اندازہ کیجئے کہ ہندوکو مسلمان بنانے کی کوششیں کر رہے ہو اور تم اپنا مسلمان بنانے کی کوشش کر رہے ہو اس لئے اتنا بڑا جرم تو ہم نہیں ہونے دیں گے، ہم تو اقلیتوں کے حقوق کے ذمہ دار ہیں یعنی عیسائیوں کے حقوق کے ذمہ دار ہیں، سکھوں کے حقوق کے ذمہ دار ہیں اور ہندؤں کے حقوق کے ذمہ دار ہیں اور ان کو بھی تمہاری زد سے بچائیں گے۔جس طرح انگریزی میں کہتے ہیں The cat is out of the bag یہ بات تو نکل آئی دل سے کہ تم اقلیت نہیں ہو بہر حال اگر اقلیت ہوتے تو جس طرح ہر اقلیت کی حفاظت کر رہے ہیں حقوق کی تمہاری بھی کرتے لیکن تم تو ایک غالب آنے والی اکثریت ہو اس سے بیچ کوئی نہیں سکتا جتنا ہم تمہیں دبانے کی کوششیں کرتے ہیں تم اتنا اور زیادہ تیزی کے ساتھ اکثریت میں تبدیل ہوتے چلے جارہے ہو اس لئے نہ صرف تم سے اپنے آپ کو بچائیں گے بلکہ دوسری اقلیتوں کو بھی بچائیں گے کیونکہ ان کو بھی تمہاری ذات سے خطرہ ہے اور یہ امر واقعہ ہے کہ سچائی کے پھیلنے کا جو خطرہ ہے وہ تو ہر ایک کو لاحق ہے ہم سے۔چنانچہ عیسائیوں نے عیسائی بڑے بڑے پادریوں نے وہاں بیان دیئے کہ اللہ تعالیٰ مبارک کرے یہ عظیم الشان دور کہ جس میں ہمیں احمدیوں سے بچالیا گیا ہے، ہمیں تو مصیبت پڑی ہوئی تھی ، یہ چھوڑتے نہیں تھے ہمیں اور ایسی ایسی دلیلیں دیتے تھے کہ ہمارے خداوند کو مار رہے تھے۔اے مبارک قوم ! تم نے تو حد کر دی آج تو ہم پر اتنا بڑا احسان کر دیا کہ احمدیوں کی مصیبت سے ہمیں نجات بخشی۔یہ مبارک باد کے خطوط چھپے ہیں اخباروں میں بیانات شائع ہوئے ہیں۔یہ حالت ہو چکی ہے قوم کی تو اندازہ کریں کہ آخر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کب تک انتظار کرے گی؟ ان حالات کو دیکھ کر امر واقعہ یہ ہے کہ دعا کرتے وقت بڑی مشکل میں پڑتی ہے جماعت،