خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 270
خطبات طاہر جلد ۳ 270 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۸۴ء ہیں۔اُس عالم اسلام کو بھی خطرہ ہے اور اُس اسلام کو بھی خطرہ ہے اور اُس عالم اسلام کا دردبھی ہمارے ہی جگر میں ہے اور اُس اسلام کا درد بھی ہمارے ہی جگر میں ہے کیونکہ ایک عرب شاعر نے کیا خوب کہا تھا: قومی هم قتلوا اميـمـة اخي وان رميتهم يصيبني سهمى کہ میری ہی قوم ہے جس نے میرے بھائی امیمہ کوقتل کیا اگر میں انہیں تیر مار دوں تو وہ تیر مجھے ہی پہنچے گا کیونکہ بھائی کا دکھ بھی بچے بھائی کو ہی ہوتا ہے۔اس لئے حالات بہت ہی سنگین اور نہایت ہی خطر ناک ہیں اور تاریکی اس سے زیادہ ہے جس کا آپ تصور باندھ رہے ہیں۔فی الحال جو شکل یہ تحریک اختیار کر رہی ہے اس کا نقشہ تو ایک جہنم کا سا ہے جس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ایک مطالبے کے بعد دوسرا مطالبہ اور جب یہ کہا جاتا ہے کہ اب یہ تمہارے مطالبے منظور ہو گئے هَلِ امْتَلَاتِ کیا جہنم تیرا پیٹ بھر گیا تو جواب یہ ملتا ہے هَلْ مِنْ مَّزِيدٍ (ق:۳۱) کہ ہمارا پیٹ تو بھرنے والا نہیں اور کیا مطالبات پورے ہونگے ان کے خلاف اور بعض علما تو بڑے فخر کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ فلاں فلاں مطالبات منظور ہو جائیں گے اور دیکھا ہم نہیں کہتے تھے کہ ہمیں کچھ علم ہے ، کوئی وجہ ہے جو ہم یہ کہہ رہے ہیں اس لئے آئندہ جو مطالبات ہم کہتے ہیں پورے ہوں گے اور تم کرو اس کے پیچھے بھی کوئی بات ہے، کوئی تعلق ہے تبھی تو ہم بات کر رہے ہیں بغیر تعلق کے کس طرح ہم بغیر کھونٹے سے ناچ سکتے ہیں۔بہر حال یہ تو اللہ کی تقدیر پر منحصر ہے وہ جماعت جو اپنا سب کچھ اپنے رب کے حضور پیش کر بیٹھی ہو، اپنا کچھ بھی باقی نہ رکھا ہو وہ خوف کے مقام سے گزر چکی ہوتی ہے وہ ایک ہی جماعت ہے دنیا میں جس کو کوئی خوف نہیں کیونکہ جوسب کچھ دے بیٹھی ہو اپنی زندگیوں میں اور صرف منتظر ہو کہ کب خدا کیا چیز ہم سے مانگتا ہے، کس قربانی کا مطالبہ کرتا ہے؟ وہ تو امانتیں لئے بیٹھی ہے جماعت۔اس کی تو زندگیاں بھی امانت ہیں، اس کے اثاثے امانت ہیں، اسکے بچے امانت ہیں، اس کے بوڑھے امانت ہیں، اس کی عورتیں امانت ہیں، کچھ بھی اس کا اپنا نہیں رہا تو اس کو کیسے ڈرا سکتے ہیں؟ مگر بہر حال اللہ جانتا ہے کہ کب تک اس نے یہ آزمائش کے دن چلانے ہیں؟ ایک امر بہر حال یقینی ہے کہ جماعت کی ہر مخالفت جس طرح پہلے