خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 263
خطبات طاہر جلد ۳ 263 خطبه جمعه ۸ ارمئی ۱۹۸۴ء۔مثلاً ہمارے یہاں ایک گجراتی جانے والا خاندان ہے انہوں نے ہی مجھے مشورہ دیا اورلکھا ایک خط چند دن ہوئے کہ گجراتی زبان میں بہت بڑا خلا ہے اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے یہ بالکل درست ہے اور گجراتی لوگوں میں نیکی بھی، احمدیت کی مخالفت نیکی کی وجہ سے کرتے ہیں اپنی طرف سے اور ان کو کچھ علم نہیں کہ جماعت احمد یہ کیا ہے چنانچہ بسا اوقات ایسا ہوا ہے جو لکھوکھا روپیہ دیا کرتے تھے جماعت کی مخالفت میں جب ان کو علم ہوا کہ کس قماش کے لوگوں کو دے رہے ہیں اور کیسے لوگ ہیں جن کی مخالفت میں دے رہے ہیں تو وہ باز آگئے، فوراً انہوں نے ہاتھ روک لیا۔تو ان کے اندر ایک سادگی بھی ہے ایک بنیادی شرافت موجود ہے اس لئے اس طبقے کو ضرور ہمیں مخاطب کرنا چاہئے اور جولوگ گجراتی جانتے ہیں ان کو پیش کرنا چاہئے کہ ہم گجراتی میں تیار ہیں لٹریچر کے تراجم کے لئے۔اسی طرح فرنچ میں تو پہلے بھی ہیں مگر بہت زیادہ ضرورت ہے، اٹالین تقریباً خالی پڑی ہے، سپینش میں اللہ تعالیٰ نے آدمی دے دیئے ہیں لیکن ابھی کافی کام باقی ہے، اسی طرح پولش ہے، چیکوسلواکین ہے اور اس طرح یوگو سلاو کی کئی زبانیں ہیں، البانین ہے سلاوک اور ایک زبان کہلاتی ہے رشین زبان میں تو بہت بڑا خلا ہے۔ہنگرین زبان ہے بہت ساری زبانیں ہیں جن میں تقریباً خلا ہے کلیتہ جماعت کے لٹریچر کا۔تو اس کے لئے انشاء اللہ تعالیٰ کوشش کی جائے گی۔اور لٹریچر کی اشاعت کے ساتھ سمعی و بصری ذرائع کے متعلق ایک الگ پروگرام ہے چنانچہ اس سلسلہ میں میری بعض غیر ملکیوں سے بات ہوئی ہے اور وہ اس بات پر تیار ہیں کہ اگر انگریزی میں ان کو ہم کیسٹس تیار کر دیں تو وہ اپنی زبان میں کچھ اجرت پر اور بعض ویسے تیار تھے شوقیہ کہ ہم خدمت کے لئے تیار ہیں اپنی زبان میں اس کا ترجمہ کریں گے اور پھر اچھی طرح بھر پور آواز کے ساتھ اس کو بھر دیں گے تو بکثرت یہ کام پھیلایا جا سکتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ۔لٹریچر کی تقسیم میں بھی بعض دقتیں ہوتی ہیں، لٹریچر کی طباعت میں بھی بعض وقتیں ہوتی ہیں اور زیادہ روپیہ پھنسانا پڑتا ہے لیکن آڈیو ویژول یعنی سمعی و بصری ذرائع کو اگر ہم استعمال کریں تو فوری کام شروع ہوسکتا ہے اور تھوڑے خرچ سے اور آج کل زمانہ بھی ایسا ہے کہ آہستہ آہستہ طبیعتیں نظر کونرمی کا عادی بنا رہی ہیں یعنی آسانی پیدا کر رہی ہیں نظر کے لئے بھی ، بیٹھ کر passively وہ ایک نظارہ دیکھ لیں اور خود بخود کانوں میں ایک آواز آ رہی ہو اس کو زیادہ پسند کرتے ہیں بہ نسبت اس کے کہ محنت سے توجہ سے