خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 262
خطبات طاہر جلد ۳ 262 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۸۴ء کو کیا ہوگیا ہے کہ اپنے دوستوں میں تبلیغ شروع کر دی ہے؟ اچھے بھلے ہمارے تعلقات، اچھے بھلے ہمارے مراسم ، اس کا مذہب اپنی جگہ میرا اپنی جگہ تبلیغ تو کبھی اس نے نہیں کی تھی پہلے۔اس شرم کو توڑنا ہے یہ جھوٹی شرم ہے اور احمدیت کی راہ میں روک بنی ہوئی ہے اس لئے جب دشمن نے للکارا ہے تو غور کریں کہ کیا کیا نقائص ہیں آپ کے، ان نقائص کو دور کریں۔لٹریچر کی اشاعت پر پابندی ہے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم اور اس کی توفیق کے ساتھ ساری دنیا میں اشاعت لٹریچر کے کام کوکئی گنا زیادہ بڑھا دینا ہے اتنا کہ ان سے سنبھالا نہ جائے، جتنی فرضی دنیا کی دولتیں ان کی پس پشت پر ہوں میں جانتا ہوں کہ کس قسم کا لٹریچر یہ شائع کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں اور کہاں سے پیسہ آ رہا ہے لیکن ہمارے غریبانہ پیسے میں جو خدا نے برکت دینی ہے اس کے ساتھ دنیا کے پیسے کا مقابلہ ہی کوئی نہیں ہو سکتا ، اس پیسے میں تو جلنے کی سرشت شامل ہے اس لئے وہ پیسہ تو جل کر خاک ہو جائے گا۔جماعت احمدیہ کا پیسہ تو آنسوؤں سے بنتا ہے یہ تو جل ہی نہیں سکتا دنیا کی طاقتوں کے مقابل پر اس لئے جماعت کے پیسے میں بہت برکت ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔تمام دنیا میں اشاعت کتب کا ، اشاعت لٹریچر کا ایک بہت زبر دست منصوبہ ہے میرے ذہن میں جس کو انشاء اللہ تعالیٰ حسب توفیق آہستہ آہستہ کھولوں گا اور جہاں تک خدا توفیق عطا فرمائے گا اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔لٹریچر کی اشاعت میں نئی زبانوں کو شامل کرنا ہے اور اس ذریعہ سے کثرت کے ساتھ ایسے ممالک میں داخل ہونا ہے جہاں ابھی تک احمدیت داخل نہیں ہوئی، ایسی قوموں میں داخل ہونا ہے جہاں ابھی تک احمدیت داخل نہیں ہوئی، ایسے طبقات میں داخل ہونا ہے جہاں ابھی تک احمدیت داخل نہیں ہوئی اور بہت سے جزیرے بنے ہوئے ہیں، بہت سے خلا ہیں، کئی قسم کے لوگ ہیں، کئی قسم کی بولیاں بولنے والے، کئی قسم کے طبقات فکر سے تعلق رکھنے والے،اتنے بڑے بڑے خلا ہیں جن تک ہم ابھی اس لئے نہیں پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس لٹریچر نہیں ہے۔تو نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب اور موجود لٹریچر کو زیادہ شائع کرنا ہے بلکہ نئی زبانوں میں لٹریچر پیدا کرنا ہے لہذا ترجمہ کرنے والوں کی ضرورت پیش آئے گی ، ترجمہ کرنے والوں کو اپنے آپ کو خدا کے حضور پیش کرنا پڑے گا اور کثرت سے ایسے رضا کار چاہئے ہوں گے جو دن رات اس کام میں مدد