خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 264
خطبات طاہر جلد ۳ 264 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۸۴ء پڑھیں۔تو اس میں کچھ خرابیاں بھی ہیں کچھ بدقسمتی بھی ہے اس دور میں لیکن فوائد بھی کچھ ہیں۔تو ہمیں دونوں طرح کے مزاج کے لوگوں کو احمدیت اور اسلام کی طرف متوجہ کرنا ہے اس لئے یہ ایک الگ سکیم چلے گی ساتھ۔قرآن کریم کی اشاعت کے کام کو تیز کرنا ہے اور نئی زبانوں میں اب اس کو شائع کرنا ہے۔اس وقت اب خدا کے فضل سے فرانسیسی کا کام تقریباً مکمل ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ایک مہینہ یا دو مہینے میں جیسا کہ آفتاب احمد خان صاحب جن کے سپرد یہ کام ہے وہ مجھے تسلی دلاتے ہیں کہ مہینے یا دو مہینے تک انشاء اللہ پریس میں چلا جائے گا۔اٹالین کے متعلق ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے ذمہ داری لی تھی کہ ترجمہ اور اس کی تصحیح اور دہرائی وغیرہ وہ سارا اپنے خرچ پر کریں گے چنانچہ ان کی طرف سے ان کی بیگم نے تین دن ہوئے خوش خبری دی تھی کہ آدھا کام ہو چکا ہے اللہ کے فضل سے۔اسی طرح اور زبان روسی ہے، روسی میں قرآن کریم کا ترجمہ موجود تو ہے لیکن ہمیں ابھی تسلی نہیں کہ وہ بعینہ قرآن کے مطابق بھی ہے کہ نہیں اس لئے کچھ روسی جاننے والے سکالرز کی ضرورت ہے اور کچھ کو ہم تیار کر رہے ہیں۔وہ تو ایسے ہیں اللہ کے فضل سے جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہیں، دین کا علم بھی خوب جانتے ہیں اور اگر وہ روسی زبان سیکھ جائیں گے تو پھر انشاءاللہ تعالی تسلی ہوگی کہ یہ جو ہمارا ترجمہ ہے قرآن کے مطابق ہے بالکل۔مگر اور بھی اگر دنیا میں کہیں روسی زبان کے احمدی ماہر ین ہوں جیسا کہ ہندوستان میں مجھے علم ہے کہ ایک ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ کچھ ٹھنڈے ہو گئے ہیں خدمت دین میں تو بہر حال جس کے کان میں بھی میری آواز پڑے وہ روسی زبان میں مدد کر سکتا ہو اسے اپنا نام پیش کرنا چاہئے۔ان اغراض کو پورا کرنے کے لئے ایک بہت بڑے Complax کی ضرورت ہے اور ایک جگہ نہیں کئی جگہ کہ جن مختلف ملکوں میں ہم ایسی تعمیرات کریں ایسے بڑے بڑے مشن قائم کریں جن میں ان ساری چیزوں کے لئے سامان مہیا ہوں اور پھر مختلف ملکوں کے سپر د مختلف کام کردیں کیونکہ یہ بہت بڑے کام ہیں۔یہ انگلستان کے بس کی بات ہی نہیں ہے یا جرمنی کے بس کی یا صرف امریکہ کے بس کی ، تمام دنیا میں ایسے بڑے بڑے مراکز قائم کرنے پڑیں گے جن کے سپرد کر دیا جائے گا کہ اس کام کا بیڑا آپ اٹھا لیں، اس کام کا فلاں مشن اٹھا لے۔اس کام کا فلاں مشن اٹھائے