خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 255
خطبات طاہر جلد ۳ 255 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۸۴ء دیتے ہیں مثلار سولاً کہہ دیا جائے تو یہ بھی مراد ہوگی کہ بہت ہی بڑا رسول ، اتنا عظیم الشان رسول کہ وہ آل کا محتاج ہی نہیں ہے۔ہے ہی وہی مراد ان معنوں میں اول ہی وہ سامنے آتا ہے۔تو عبدا جب فرمایا گیا کہ عَبْدًا اِذَا صَلَّی تو مراد یہ ہے کہ ایک عظیم الشان خدا کا بندہ ہے اس سے بڑی عبادت کرنے والا پیدا ہی نہیں ہوا، ایسا ہے کہ جب عبد کا لفظ آئے تو اس کے سوا ذہن میں اور کوئی وجود ہی نہیں آتا خدا کی نسبت کے ساتھ تو اس لئے آل کی ضرورت ہی کوئی نہیں ،حضرت محمد صلى الله مصطفی ﷺ اول اور آخر اس میں ظاہر و باہر ہیں۔تو یہ معنی بنے کہ اس بد بخت کو تو دیکھو جو حضرت محمد مصطفی عه یعنی عبد کامل کو عبادت سے روکتا ہے جب وہ کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے عبدا کے ذریعہ اس کو عام بھی کر دیا گیا اور حیرت انگیز وسعت دے دی اس لفظ میں۔یہ نہیں فرمایا کہ مومن کو جو روکتا ہے عبادت سے، یہ نہیں فرمایا کہ جو مسلم کو عبادت سے روکتا ہے، یہ نہیں فرمایا کہ جو ابراہیم کی نسل والوں کو عبادت سے روکتا ہے، یہ نہیں فرمایا کہ جو زرتشی کو عبادت سے روکتا ہے یا کنفیوشس کے مریدوں کو عبادت سے روکتا ہے۔فرمایا میرا ہر بندہ میری عبادت کا حق رکھتا ہے خواہ اس کا کوئی مذہب ہو اور وہ سب سے بڑا ظالم انسان ہے جو میرے بندے اور میرے درمیان حائل ہونے کی کوشش کرتا ہے اس وقت جب کہ وہ مجھ سے تعلق قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔تو دیکھئے کتنا عظیم الشان کلام ہے کہ ایک خاص انداز بیان کے ذریعے مفہوم کو ایک نقطے پر بھی اکٹھا کر دیتا ہے اور پھر اس طرح بکھیر دیتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان اس میں شامل ہو جاتے ہیں، ہر مذہب و ملت کا انسان اس میں شامل ہو جاتا ہے، نہ ہندو اس سے باہر رہتا ہے، نہ سکھ اس سے باہر رہتا ہے، نہ عیسائی نہ یہودی، نہ زرتشی ، نہ بدھ تمام بنی نوع انسان کی عبادت کی حفاظت کرتا ہے یہ کلام۔أَرَعَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوى اس میں بھی دو معنی ہیں اَرعَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى اَوْ اَمَرَ بِالتَّقویت کہ وہ یہ کیوں نہیں دیکھتا ظالم کہ اگر یہ جس کو وہ روک رہا ہے ہدایت پر ہوا اور تقویٰ پر قائم ہوا تو پھر اس روکنے والے کا کیا بنے گا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ کاش اس کو یہ سمجھ آجاتی کہ وہ ہدایت پر رہتا اور تقویٰ سے کام لیتا اور ان معاملات میں دخل نہ دیتا جن میں دخل دینا اس کا کام نہیں ہے کیونکہ بندے اور خدا کے معاملے میں دخل دینے کا کسی انسان کو حق عطا نہیں کیا گیا۔