خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 254
خطبات طاہر جلد ۳ 254 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۸۴ء منہ سے وہ ارادے ظاہر ہو رہے ہیں جو بالعموم بغیر کسی بات کے بغیر کسی سہارے کے منہ نہیں کھولا کرتے اس لئے اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون ان باتوں کے پیچھے ہے؟ ان مخفی ارادوں کے اظہار کے لئے جو وقت چنا گیا ہے اس کے بعد آئندہ مستقبل میں کیا ارادے ہیں۔لیکن ایک بات مجھے معلوم ہے کہ یہ ارادے کسی اور پر ظاہر ہوں یا نہ ہوں اللہ تعالیٰ پر ہمیشہ سے ظاہر تھے اور ہیں اور آج سے چودہ سو برس سے بھی زائد عرصہ سے پہلے قرآن کریم میں ان ارادوں کا ذکر موجود ہے اور ان کے نتائج کا بھی ذکر موجود ہے۔مثلاً جو نئے ارادے ظاہر کئے گئے ہیں وہ یہ ہیں کہ ان کو ز بر دستی نماز با جماعت سے روک دیا جائے ، ان کی مسجدیں منہدم کر دی جائیں اور پھر علماء کی سرکردگی میں تمام ان کے چیلے اور ہم نوا جلوس کی شکل میں ان کو لے کر جائیں مقتل کی طرف اور وہاں ان کو سنگسار کیا جائے تب ہمارے دل ٹھنڈے ہوں گے۔عجیب بات ہے کہ اگر سنگسار ہی کرنا ہے تو پھر مسجدیں توڑنے کا گناہ کیوں لیتے ہواور نمازوں سے روکنے کا گناہ کیوں سر پر لیتے ہو؟ جب عقلیں اکھڑ جاتی ہیں راستوں سے تو پھر کوئی بھی ان کی سمت نہیں رہا کرتی بھٹکتی رہتی ہیں مگر بہر حال اس سے غرض کوئی نہیں۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے جماعت احمد یہ ہر قربانی کے لئے تیار تھی اور ہے اور رہے گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ خدا کی راہ میں جان دیتے ہوئے احمدی فزت برب الكَعْبَةِ کا نعرہ لگائیں گے کہ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔لیکن ان لوگوں کا کیا حال ہے اور کیا ہوگا ان کے متعلق میں نے قرآن کریم کی وہ آیات تلاوت کی ہیں جن میں نماز سے روکنے کا ذکر فرمایا گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا تم نے دیکھا نہیں ایک ایسے شخص کو یعنی ہر اس شخص کو جو نماز سے روکتا ہے عَبْدًا إِذَا صَلی۔خدا کے بندے کو جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہونے لگتا ہے عبدا میں نکرہ استعمال کیا گیا ہے اور العبد نہیں فرمایا یعنی خدا کے خاص بندے کو یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی علا اللہ کو عبدًا کی شکل میں ظاہر نہیں فرمایا۔کیوں؟ اس لئے اس میں ایک حکمت ہے لیکن اس کے باوجود اولین طور پر آنحضور ﷺ ہی کا ذکر ہے کیونکہ تمام عبادتوں کا نقطۂ معراج آپ ہیں ،تمام عبادتیں آپ سے پھوٹتی ہیں اور بنی نوع انسان میں پھیلتی ہیں اس لئے عَبدًا میں ذکر بھی فرما دیا گیا اور اس لفظ کو عام بھی رکھا گیا۔ذکر اس طرح فرمایا کہ نکرہ میں ایک یہ بھی معنے پائے جاتے ہیں کہ اگر کسی ہت عظیم الشان وجود کا ذکر کرنا ہو تو اس کو آل کے لفظ سے مخصوص کرنے کی بجائے نکرہ رہنے