خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 256

خطبات طاہر جلد ۳ ہے 256 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۸۴ء اگلی آیت کے بھی اسی طرح دو معانی بنیں گے اَرَعَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى کہ تم یہ سمجھ رہے ہو کہ ہم اس لئے روکنے کا حق رکھتے ہیں کہ كَذَّبَ وَتَوَلی کہ یہ جھوٹا ہے اور پھر گیا ہے دین سے اس لئے ہمیں حق ہے کہ ہم مداخلت کریں اور عبادت سے روک دیں اللہ تعالیٰ فرماتا ب الم يَعْلَمُ بِأَنَّ اللهَ يَری اے بیوقوفو! اے عقل کے اندھو! تم کیا خدا کو بھی اندھا سمجھ رہے ہو؟ جس کی وہ عبادت کر رہا ہے اگر یہ پھرا ہوا ہے، بے دین ہے، جھوٹا ہے تو اس کو بھی نظر نہیں آرہا کہ یہ جھوٹی عبادت کر رہا ہے اور صرف تمہیں دکھائی دے رہا ہے؟ کیسی عمدگی کے ساتھ اس دلیل کو تو ڑا گیا ہے، کلینتہ پارہ پارہ کر دیا گیا ہے اس دلیل کو کہ چونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے دین سے پھرا ہوا ہے اس لئے اس کو عبادت کا حق نہیں دوسرے معنی یہ ہیں کہ أَرَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلی ان کو یہ خوف نہیں آتا کہ اگر وہ خود جھوٹے ہوں ،خود حق کی مخالفت کرنے والے اور سیچوں کی تکذیب کرنے والے ہوں اور خود دین سے پھر چکے ہوں تو پھر ان کا کیا بنے گا؟ پھر وہ ایک ایسے وجود کی مخالفت کر رہے ہوں گے،ایک ایسے عبادت کرنے والےکوروک رہے ہوں گے کہ وہ تو دین حق پر قائم ہے، ہدایت پر ہے اور تقویٰ پر ہے اور یہ کذاب ہیں اور یہ دین حق سے پھرے ہوئے ہیں۔کتنا عظیم الشان کلام ہے جو آنحضرت محمد علیہ کی عظمت کو بھی ظاہر کرتا ہے اور شرف انسانیت کو بھی قائم کر رہا ہے ساتھ ہی تمام بنی نوع انسان کی عظمت کو قائم کرتا ہے اور پھر فرمایا كَلَّا لَبِنْ لَّمْ يَنْتَهِ خبر در! ایسا نہیں ہوگا جیساوہ چاہتا ہے، ہم متنبہ کرتے ہیں کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے کیونکہ جب بندے اور خدا کی راہ میں کوئی حائل ہوتا ہے تو دو باتیں بڑی واضح ہیں ایک تو یہ کہ جب تک وہ بندہ کمزور نہ ہو جس کو عبادت سے روکا جا رہا ہے کوئی عبادت سے روک ہی نہیں سکتا ، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔اگر عیسائی طاقتور ہوں کہیں تو عیسائیوں کو عبادت سے نہیں روکا جاتا ، ہند و طاقتور ہوں تو ہندؤں کو تو عبادت سے نہیں روکا جاتا سکھ طاقتور ہوں تو ان کو بھی عبادت سے نہیں روکا جا تا اور اس وقت جو پاکستان قانون بنا ہے وہ صرف احمدیوں کے لئے ہے کسی طاقتور قوم کے مخالف وہ قانون نہیں ہے۔تو اس میں تو یہ پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ کمزور بندوں کے خلاف کچھ ہوگا اور ہونے والا ہے۔كَلَّا لَبِنُ لَمْ يَنْتَهِ اگر وہ باز نہیں آئے گا تو اس کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ بندہ تو کمزور ہے کیونکہ اگر کمزور نہ ہوتا تو تم اس کو عبادت سے نہ روکتے لیکن وہ خدا کمزور نہیں ہے