خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 249
خطبات طاہر جلد ۳ 249 خطبه جمعه الارمئی ۱۹۸۴ء قربانی کی ضرورت پیش آئے گی کسی جماعت کی قربانی کی ضرورت پیش آئے گی میں ہرگز اس سے گریز نہیں کروں گا لیکن یہ صورت حال ایسی ہے کہ اس وقت سب سے بڑا ہتھیارا ہما را دعا ہے اور دعاؤں میں اپنے آپ کو اس طرح ہلکان کر دینے کی ضرورت ہے کہ ناممکن ہو جائے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے لئے کہ وہ مزید دیر کرے۔اس کے سوا اور کوئی اس وقت صورت حال ہے نہیں۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا یہ خفی کفر اور ظاہر کفر ان دونوں کی ایمان باللہ کے مقابل پر ایک جنگ چل رہی ہے اور جب آپ اپنے دلوں کو ٹولیں گے تو آپ پر یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہوگا کہ آپ کے اندر بھی یہ جنگ شروع ہو چکی ہے۔پردہ غیب پر ان حالات میں ایمان لانا اور دعا کو ایک موثر ذریعہ سمجھنا یہ بھی ایک بہت بڑا امتحان ہوا کرتا ہے اور ہر مومن بھی ایمان کی ایک حالت پر نہیں ہوا کرتا بہت سے مومن ایسے ہوتے ہیں جب ان کے ذرائع یعنی مادی اور دنیاوی ذرائع کاٹ دیئے جاتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بے بس سمجھ کر اس لئے دعا کرتے ہیں کہ اب اور کوئی چارہ نہیں رہا۔یہ بھی ایک دہریت کی مخفی قسم ہے کیونکہ جو خدا کا بندہ ہے وہ سب سے پہلے خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور دنیاوی ذرائع کی طرف اس لئے متوجہ ہوتا ہے کہ میرے خدا کا حکم ہے کہ جو کچھ مقدور بھر ہے وہ تم ضرور کرو چنانچہ ایسی حالت میں حقیقت میں ایمان پہنچانا جاتا ہے جب کہ ذرائع ہاتھ سے مسدود ہو جائیں۔پھر ایک اور طرح کا امتحان بھی آتا ہے اس وقت بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دعا تو ہم کر رہے ہیں مگر ہمارے ہاتھ میں تو کچھ بھی نہیں ہے، اس وقت ایمان بالغیب کے امتحان کا وقت ہوا کرتا ہے۔اگر ایسی صورت میں جماعت یعنی ایک مظلوم جماعت جس پر ظلم کئے جارہے ہیں اور ساری مادہ پرستی کی طاقتیں اس کے مقابل پر کھڑی ہوگئی ہیں وہ اگر ایمان کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور دعا اس یقین سے کرے کہ لازماً قبول ہوگی ، ساری کائنات کی طاقتیں ہماری پشت پر کھڑی ہیں اور ہمارے مد مقابل کو وہم ہے کہ وہ طاقتور ہے۔جب اس یقین سے دعا کی جاتی ہے تو الہی غیب اور دنیا کے حاضر کی لڑائی ہو جاتی ہے، وہ قوم جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ آرہا ہو جب وہ دعا کرتی ہے تو ایمان بالغیب کا وہ امتحان کا وقت ہوا کرتا ہے اور اگر وہ یقین کرے کہ سب سے بڑا ہتھیار دعا ہے تو عظیم الشان تبدیلیاں اس کے اندر پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں ، ساری فتوحات کے دروازے ایمان بالغیب کی راہ سے کھلتے ہیں۔سب سے پہلے تو نفس کی اصلاح ہے، اللہ تعالیٰ کا قرب ہے جو دعا کے نتیجہ میں حاصل ہوتا