خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 250

خطبات طاہر جلد۳ 250 خطبه جمعه ارمئی ۱۹۸۴ء ہے اور دل کے اندر انسان اپنے دہریت کے زنگوں کو دھونا شروع کر دیتا ہے،ساتھ ساتھ دعا کرتا ہے، ادھر سے خوف بڑھا ہوا ہوتا ہے دل ڈرا رہا ہوتا ہے کہ پتہ نہیں یہ ہتھیار کوئی ہے بھی کہ نہیں اور پھر جب اس کو توفیق ملتی ہے ایک آخری فیصلہ کرنے کی کہ ٹھیک ہے اگر خدا نہیں ہے تو پھر مقابل ضرور جیتے گا اور اگر خدا ہے تو لازماً اس کے مقدر میں شکست ہے اور ساری فتوحات میرے ہاتھ میں ہیں۔تو آخری صورت پھر وہی بنتی ہے دہریت اور خدائی کی جنگ اور دعا کے ذریعہ بندہ اپنے بوجھ کو اپنے رب کی طرف منتقل کر رہا ہوتا ہے اور خود بیچ میں سے نکل جاتا ہے اس لئے جیسا کہ میں نے پہلے بھی زور دیا تھا آئندہ بھی اس بات پر زور دوں گا کہ سب سے زیادہ آج جو ہتھیار ہمارے کام آسکتا ہے وہ دعا کا ہتھیار ہے۔اس سے زیادہ عظیم الشان کوئی ہتھیار نہیں ہے اور اگر یہ ہتھیار کام نہیں کرتا تو پھر کوئی خدا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ نے یہی دعا عرض کی اپنے رب کے حضور جنگ بدر میں نہیں اللهم إن أهلكتَ هذهِ العِصَابَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ في الارض ابداً - (مسلم کتاب الجهاد والسير باب الامداد بالملانگته في غزوة بدر ) کہ اے خدا آج ان لوگوں کو تو نے مرنے دیا تو پھر تیری عبادت کبھی نہیں کی جائے گی کیونکہ یہی عبادت کا خلاصہ ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لانے والے ہیں۔یہ مٹ گئے تو دنیا داروں نے کہاں تیری پھر عبادت کرنی ہے اس لئے دعا سب سے اہم اور آخری اور فیصلہ کن ہتھیار ہے۔اس ہتھیار کے ذریعے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتوں کے ٹکڑے اڑ سکتے ہیں اگر وہ خدا سے ٹکر لیں تو جماعت احمدیہ کا تو سب کچھ دعا ہے اس لئے جب میں دعا کہتا ہوں تو ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ کوئی اور چیز سمجھ میں نہیں آ رہی ہوتی میں کہتا ہوں کہ چلو دعا ہی کرو نعوذ باللہ من ذلک ہرگز ایسی کوئی صورت نہیں۔میں جانتا ہوں کہ دعا ہی کے ذریعہ سارے کام بنتے ہیں ، میں جانتا ہوں کہ دعا ہی کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو تمام فتوحات نصیب ہوئی ہیں لیکن اس طرح دعا کریں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا منگن جا سومرر ہے مرے سوئمنگن جا ایک محاورہ ہے پنجابی کا جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استعمال فرمایا۔بہر حال یہ بہت ہی پیارا پنجابی کا فقرہ ہے منگن جاسومر رھے مرے سومنکن جا کہ اگر تم نے مانگنے جانا ہے تو پھر مرجاؤ یعنی عجیب بات ہے کہ مرے سومنگن جا میں بھی بڑا لطیف ایک پیغام ہے کہ مانگنا خود ہی ایک ایسی چیز ہے جب انسان موت قبول کر لیتا ہے