خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 248

خطبات طاہر جلد ۳ 248 خطبہ جمعہ الارمئی ۱۹۸۴ء نقشہ جو پہلے کھینچا گیا ہے اس میں تو ہر دکھ خدا کے قریب کرتا ہے مومن کو نہ کہ اس سے دور کرتا ہے تو فرمایا وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اس وہم میں مبتلا نہ ہو جائیں انکار کرنے والے أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِاَنْفُسِهِمْ کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے لئے بہت اچھی بات ہے، بہت ڈھیل مل رہی ہے ان کو فرمایا اِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمَام انہیں مہلت دیتے ہیں تا کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں اور ان کا کفر اور ان کا تمر داوران کا خدائی کا دعویٰ اور کھل کر سامنے آجائے دنیا کے یہاں تک کہ کوئی شک کی گنجائش نہ رہے کسی کے لئے آج خدائی اور بے خدائی کی جنگ ہونے والی ہے۔فرمایا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ جتنے بڑے وہ دعوے کرتے تھے اتنا ہی ذلیل کن عذاب ان کے لئے مقدر ہے۔اس بات کو کوئی دنیا میں ٹال نہیں سکتا ایک ایسا مقدر ہے جسے کوئی تبدیل کر ہی نہیں سکتا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی لئے فرمایا کہ اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ کو ملامت آنے والی ہے تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه: ۵۹۵) کتنا عظیم الشان دعوی ہے لیکن ایک عاجز بندے کا دعویٰ ہے اپنی طاقت کی بنا پر یہ دعویٰ نہیں یقین کی بنا پر دعوی ہے، کامل غیر متزلزل ایمان کی بنا پر دعویٰ ہے۔یہ وہ صورت حال ہے جس میں مذہب کی فتح اور غیر مذہبی قوتوں کی شکست آخری شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ میں جماعت کو جب مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا ہمیں کرنا چاہئے تو سب سے زیادہ میں نے دعاؤں کی طرف توجہ دلائی اور بعض لوگوں کو اطمینان نصیب نہیں ہوا کیونکہ اتنا جوش ہے طبیعتوں میں، اتنے ولولے ہیں اپنی زندگیاں پیش کرنے کے لئے، اپنی ہر چیز خدا کی راہ میں داؤ پر لگادینے کا جوش تو وہ کہتے ہیں آپ نے تو کچھ بھی ہمیں جواب میں نہیں بتایا، ٹھیک ہے دعا تو ہم کرتے ہی ہیں لیکن اور کچھ بتا ئیں تا کہ ہمیں تسلی ہو کہ ہم کچھ کر رہے ہیں۔میں جماعت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ جماعت کے مفاد میں، اسلام کے مفاد میں ان حدود کے اندر رہتے ہوئے جن کی قرآن کریم اجازت دیتا ہے جب بھی مجھے کسی قربانی کی کسی شخص کی