خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 16

خطبات طاہر جلد ۳ 16 خطبه جمعه ۱۳؍ جنوری ۱۹۸۴ء عفو کہتے ہیں ایسی ذات کو جو بدی دیکھتی بھی ہے لیکن اس سے نظریں پھیر لیتی ہے ،سلوک ایسا فرماتی ہے جیسے بدی ہوئی ہی نہیں۔اور غفور میں اس سے اگلا قدم ہے یعنی ایک انسان نے بدی کی اور اس حد تک بڑھ گیا کہ وہ سزا کے نیچے آ گیا اور سزا دینے والے نے سزا کا فیصلہ کر لیا پھر وہ اپنے رب کی طرف یا جس نے بھی اسے سزا دینی تھی اس کی طرف متوجہ ہوا، اس سے معافی مانگی، گریہ وزاری کی تو فیصلہ کرنے کے بعد یا بدی کے اتنا بڑھ جانے کے بعد کہ سزا کی لازماً مستوجب ہو چکی ہو پھر جب بخشا جاتا ہے تو اس کو مغفرت کہتے ہیں اور غفور صفت وہاں کمزور بندوں کے کام آجاتی ہے۔تو میں اس پہلے حصہ پر آج کچھ احباب جماعت سے مخاطب ہوں گا یعنی خدا تعالیٰ کی صفت عفو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : هُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيَّاتِ۔وہی ذات ہے جو تمہیں بخشتی بھی ہے جب تم تو بہ کرتے ہو تو تو بہ کو قبول بھی فرما لیتی ہے لیکن ایک پہلو پر تمہاری نظر نہیں کہ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيَّاتِ تمہارے بے شمار نقائص ہیں بہت سی ایسی کمزوریاں ہیں جن کی طرف تمہیں توجہ ہی نہیں ، نہ تو بہ کا کوئی موقع پیدا ہوتا ہے، ان سے بھی وہ عفو کرتا چلا جاتا ہے۔لیکن یہ بات نہیں کہ اس کے علم میں نہیں آتیں بدیاں۔انسان تو بعض دفعہ غافل ہو جاتا ہے، کوئی بدی، کوئی کمزوری اس کی نظر میں آتی ہی نہیں اس کا نام عفو نہیں ہے۔فرمایا وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کر رہے ہو اور پھر اس طرح آنکھیں چرا لیتا ہے تمہاری بدیوں سے گویا وہ تھیں ہی نہیں۔چنانچہ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے: (البقره:۵۲،۵۳) وَإِذْ وَعَدْنَا مُوسَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَانْتُمْظْلِمُونَ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ کہ جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا اور موسی“ کے ساتھ اس کے ساتھیوں کو بھی اپنا قرب نصیب کیا اس کے باوجود ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِہ اس کے باوجود تم نے بچھڑے کو معبود بنا لی وَ اَنْتُمْ ظلِمُونَ اور تم کھلم کھلا ظلم کرنے والے تھے۔ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے ، یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ نے تم سے عفو کا سلوک فرمایا۔