خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 17

خطبات طاہر جلد ۳ 17 خطبه جمعه ۱۳؍ جنوری ۱۹۸۴ء مِنْ بَعْدِ ذلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ تا کہ تم میں شکر پیدا ہو۔عفو کے نتیجہ میں یہاں خدا تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلا دی کہ شکر پیدا ہونا چاہئے۔اور یہ بھی ایک بہت ہی ضروری قابل توجہ بات ہے جس کو بہت سے لوگ بھلا دیتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں پھر کئی خرابیاں معاشرہ میں پیدا ہو جاتی ہیں۔تو سب سے پہلے تو میں آپ سے یہ کہوں گا کہ آپ عفو کی عادت ڈالیں عفو کا سلوک کرنا دوسروں سے یہ ایک بہت ہی عظیم خوبی ہے اور انسانی کردار کی تعمیر میں بہت بڑا کام کرتی ہے۔بدیوں کی موجودگی میں یہ بحث کئے بغیر کہ بدی تھی یا نہیں جہاں تک ممکن ہو، جہاں تک انسانی ذہن یہ فیصلہ کرے کہ اگر میں معاف کروں گا ، عفو سے کام لوں گا تو بدی سر نہیں اٹھائے گی بلکہ اس کے نتیجہ میں شکر پیدا ہوگا اور اصلاح ہوگی۔یہ دو ہیں نتائج جو قرآن کریم سے معلوم ہوتے ہیں کہ عفو کے نتیجہ میں پیدا ہونے چاہئیں۔دوسری جگہ فرماتا ہے۔فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (شوری:۴۱) کہ جو شخص عفو سے کام لے اس شرط پر کہ اس کے نتیجہ میں اصلاح ہو فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ اس کا اجر اللہ پر ہے۔تو دو شرطیں معاف کرنے والے کو ملحوظ رکھنی چاہئیں اور دو شرطیں اس کو بھی ملحوظ رکھنی چاہئیں جس سے عفو کا سلوک ہو رہا ہو۔عفو کرنے والے کو ہمیشہ قرآن کریم کی تعلیم کے پیش نظر یہ دیکھنا چاہئے کہ میر اعفواس شخص کی اصلاح کا موجب بن سکتا ہے یا نہیں اور کیا میرے عفو کے نتیجہ میں اس کے اندر جذبات تشکر پیدا ہوں گے یا نہیں۔بعض دفعہ قومی طور پر ہر شخص کے دل میں جذبات تشکر پیدا نہیں ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ اتنا رحم کرنے والا اور اتنا عفو ہے کہ چندلوگوں کے جذبات تشکر کی خاطر وہ دوسروں سے بھی صرف نظر فرمالیتا ہے اس لئے حضرت موسیٰ کی قوم کی جو مثال دی گئی ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ ہر شخص شکر گزار بندہ بنے گا۔جیسا کہ اور مواقع پر اللہ تعالیٰ کی بے انتہا ر حمت اور شفقت اور رافت کے نمونے ملتے ہیں جب قوموں سے عفو فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تو ان میں سے بعض کو شکر کا موقع دیتا ہے، جن کے متعلق جانتا ہے کہ وہ شکر کریں گے اور ان کے صدقے دوسری قوم بھی بخشی جاتی ہے۔مگر جب ہم انفرادی معاملہ کرتے ہیں تو عفو کر نیوالے کا یہ فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ اس کے عفو کے نتیجہ میں جذبات تشکر پیدا ہور ہے ہوں یا اصلاح ہو رہی ہواگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو عفو کا مطلب یہ ہے کہ بدی کی حوصلہ افزائی کی جائے اور بعض دوسرے معصوم انسانوں کو بعض دوسرے انسانوں کے ظلم کا نشانہ بنایا جائے تو ان دو شرطوں کے ساتھ عفو ہے لیکن جہاں ملکیت ہو وہاں