خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 15
خطبات طاہر جلد ۳ 15 خطبه جمعه ۱۳/ جنوری ۱۹۸۴ء اللہ تعالیٰ کی صفت عفو (خطبه جمعه فرموده ۱۳ جنوری ۱۹۸۴ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل قرآنی آیت تلاوت فرمائی: وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيَّاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ (الشورى: ۲۲) پھر فرمایا: میں نے چند خطبات پہلے ایک سلسلہ کا آغاز کیا تھا کہ صفات باری تعالیٰ کوملحوظ رکھتے ہوئے جماعت احمدیہ میں ایک ایک خلق کی خصوصیت کے ساتھ تعلیم دوں۔اس سلسلہ کا آغاز میں نے امانت سے کیا تھا آج کے موضوع کے لئے میں نے عضو کو چنا ہے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام عَفُوٌّ ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللهَ كَانَ عَفُوا غَفُورًا (النساء:۴۴) عَفُو کہتے ہیں در گذر کرنے والے کو۔غَفُورٌ بخشنے والا۔عفو کا معنی ہے درگزر کرنے والا۔درگزر کرنے میں ایک اعراض کا پہلو پایا جاتا ہے، بدی کو دیکھنا لیکن اس طرح اس سے آنکھیں چرا لینا کہ دیکھنے والا شر مارہا ہو بدی سے، گویا اس نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔چنانچہ عـــــا کا معنیٰ ہے صاف کر دینا۔چٹیل چھوڑ دینا۔ایسی زمین کو بھی عفو کہتے ہیں جہاں کچھ کاشت نہ کیا گیا ہو ، خالی پڑی ہوئی ہو اور صفح جو ہے مٹانے کا نام بھی ہے عفو اور صـفـح دونوں ملتی جلتی صفات ہیں۔تو