خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 200 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 200

خطبات طاہر جلد ۳ 200 خطبه جمعه ۱۳ راپریل ۱۹۸۴ء سے بہتر وہ خوف ہے جو خدا کی خاطر انسان پر عائد کیا جائے۔کوئی اور خوف اس خوف کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ویسے تو ایسی بدقسمت مائیں بھی ہوتی ہیں جو خود اپنے بچوں کو خوف دلاتی ہیں اور ان دیکھی چیزوں کا خوف دلاتی ہیں۔بعض بچے بیچارے جنوں بھوتوں کے تصور میں ڈرتے ڈرتے اپنا بچپن گزارتے ہیں اور ایسا خوف زدہ دل لے کر بڑا ہوتے ہیں کہ ساری زندگی وہ خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔بعض قو میں ہیں جن کو خوف گھیرے ہوئے ہیں کئی قسم کے ، بعض بادشاہتیں ہیں جن کو یہ خوف ہے کہ کسی وقت ہمارا تختہ نہ الٹ دیا جائے ، بعض حکومتیں دوسری حکومتوں کا خوف کھا رہی ہیں بعض اقتصادی نظام بعض دوسرے اقتصادی نظاموں کا خوف کھا رہے ہیں تو خوف سے تو کوئی مبرا نہیں ناممکن ہے کہ انسان خوف کے بغیر زندگی گزار سکے۔مگر قرآن کریم ایک ایسے خوف کا ذکر فرماتا ہے جو محض اللہ ہو، انسان کا کوئی قصور نہ ہو، کوئی اس کی خواہش نہ ہو جو کسی دوسرے کی خواہش پر بداثر ڈالنے والی ہو، کوئی اس کی حرص نہ ہو جس حرص نہ کے نتیجہ میں کسی غیر کا نقصان ہوتا ہو، کوئی علاقہ فتح کرنے کی تمنا نہ ہو، کوئی جبر اور حکومت کی تمنا اس کے دل میں نہ ہو، کوئی مراد ایسی نہ ہو جو دوسرے کی مراد سے ٹکراتی ہو بلکہ خالص وہ بنی نوع انسان کی بہبود کے لئے کوشاں ہو اور نیک ارادے رکھتا ہو۔ایسا انسان جس سے کسی دوسرے انسان کو کوئی خوف نہ ہو وہ جب غیروں سے ایسے حالات دیکھتا ہے، ایسے بدارادے اس کو نظر آتے ہیں کہ ان کے نتیجہ میں بظاہر اس کے دل میں خوف پیدا ہونا چاہئے لیکن اپنے کسی قصور کے نتیجہ میں نہیں بلکہ فی الحقیقت اپنی بعض نیکیوں کے نتیجہ میں اس کو خوف لاحق ہو جاتا ہے غیروں سے ایسے خوف کا خداذ کرفرماتا ہے کہ یہ خوف محض اللہ کی خاطر اس پر عائد کیا گیا ہے۔ایسے خوف کو خدا تعالیٰ خوش خبری کے طور پر پیش کرتا ہے ڈرانے کے طور پر نہیں، انذار کے طور پر نہیں۔فرماتا ہے کچھ میرے نیک بندے ہیں ان کے مقدر میں ایسا خوف بھی ہوتا ہے کہ جو خوف محض خدا کی خاطر ان پر ڈالا جاتا ہے باوجود اس کے کہ ان کی طرف سے کسی کو کوئی خوف نہیں ہوتا۔ان کا قول سلام ہوتا ہے، ان کا فعل سلام ہوتا ہے۔وہ ہر ایک کو امن کی دعوت دیتے ہیں، اپنی طرف سے بے خوفی کا پیغام دیتے ہیں اس کے باوجود بعض لوگ ان پر ایسی مصیبتیں کھڑی کرنے کی کوششیں کرتے ہیں کہ پیشتر اس کے کہ وہ مصیبتیں عملی جامہ پہنیں ایک خوف کی حالت طاری کر دی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسی صورت میں ہم تمہیں آزمائیں گے