خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 165
خطبات طاہر جلد۳ 165 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء پر دے جاتے ہو اور اکثر اوقات دینے والا اپنے مال کا بہترین دینے کی بجائے وہ حصہ پہلے نکالتا ہے جس کی اس کو ضرورت نہیں رہتی اور یہ بہت بڑی گستاخی ہے۔ایک طرف محبوب کو تحفہ دینے کا دعوی ہو اور دوسری طرف گندی گندی چیزیں نکال کر دی جائیں یہاں تک کہ قرآن کریم ایک اور موقعہ پر بیان فرماتا ہے کہ ایسے مال نہ دیا کرو کہ اگر تمہیں دیئے بھی جائیں تو تمہاری نظریں شرم سے جھک جائیں۔(البقرہ: ۲۶۸) تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ قرضہ حسنہ کے نام پر انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس ظلم کا شکار ہورہی ہوتی ہے کہ اپنے رب کے حضور ادفی چیزیں دے رہی ہوتی ہے اور اس کا نام حسن رکھتی ہے اور کہتی ہے دیکھو! ہم نے خدا کی خاطر کیا کیا کچھ دے دیا۔تو وہاں اللہ تعالیٰ کی صفت حلیم جو ہے وہ انسان کو اُس کے عذاب اور پکڑ سے بچاتی ہے۔ورنہ دنیا میں ایک بادشاہ کے سامنے آپ سڑا ہوا مال لے کر چلیں جائیں تو لا زماوہ اس کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔چاہے غریب بھی انسان ہوا گر وہ تحفے کے طور پر ایک سبز پتا بھی توڑتا ہے تو لہلہاتا ہوا سبز پتہ توڑتا ہے، وہ یہ نہیں کرتا کہ سڑا ہوا بسا ہو جوگرا ہواز مین پر پتہ اٹھا کر بادشاہ کو دے۔بادشاہ تو امیر کے تحفے سے بھی مستغنی ہوتا ہے اور غریب کے تحفے سے بھی لیکن اس کے اندر جو حسن شامل ہو جاتا ہے وہ اس کو قبول کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی حسن کو قبول کرتا ہے لیکن جانتا ہے کہ حسن کے نام پر انسان نہایت ہی بیہودہ چیزیں دے رہا ہوتا ہے اور پھر جو خدا کی خاطر مالی قربانی کے نظام میں شامل ہوتے ہیں ان کو حلیم بننا پڑتا ہے کیونکہ جب وہ خدا کی خاطر مال لینے کے لئے جاتے ہیں تو طرح طرح کی باتیں بھی سنتے ہیں، قرآن کریم ان باتوں کا ذکر بھی فرماتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں اچھا اللہ غریب ہے ہم امیر ہیں ہم سے مانگنے آئے ہو خدا کے لئے، عجیب و غریب طعنے دیتے ہیں اور چونکہ مالی لین دین کے معاملات میں یہ باتیں لازمی حصہ ہیں اس لئے حلیم بنے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔ان بندوں کو بھی حلیم بنا پڑتا ہے جو خدا کی خاطر قربانی والے نظام سے وابستہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اگر حلیم نہ ہو تو بظاہر قربانی کرنے والے جو ہیں ہمیں ان کی اکثریت کو ہلاک کر دے اس سلوک کے نتیجہ میں جو وہ خدا کی خاطر مال دیتے وقت کرتے ہیں تو فرمایا میں غفور بھی ہوں اور حلیم بھی ہوں۔یہ دونوں صفات جب مل جاتی ہیں تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ میں شکر کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔تم اپنی طرف سے