خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 166
خطبات طاہر جلد۳ 166 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء پتہ نہیں کیا کیا گمان کر کے چیزیں پیش کر رہے ہو؟ کیا کیا اُن میں کیڑے ہیں ؟ کیا کیا ریا کاریاں ان میں داخل ہیں؟ یہ ساری باتیں بھی تو آجاتی ہیں اس میں۔بظاہر دانہ مکمل ہے دیکھنے میں لیکن اندر سے اس کو گھن چاٹ چکا ہے۔بہت سی انسان کی مالی قربانیاں انفاق فی سبیل اللہ کو ایسی بیماریاں لگی ہوئی ہیں یا ایسے ایسے کیڑے لگے ہوئے ہیں کہ وہ اندر سے کھا چکی ہوتی ہیں اُن قربانیوں کو بد خلقی سے یا گندی چیز دینا تو ایک الگ معاملہ ہے اچھی چیز دیتے وقت بھی خدا کے سوا غیر اللہ کا خیال دل میں آجاتا ہے۔ریا کاری کے نتیجہ میں انسان ایک قربانی کر رہا ہوتا ہے تو اکثر اموال تو گندے ہو جاتے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ حلیم ہے جو ان کو شکر کے ساتھ قبول کرتا ہے۔وہ ہماری پردہ پوشی بھی فرماتا ہے ہم سے بخشش کا سلوک بھی فرماتا ہے اور فرماتا ہے میں تمہارا ممنون ہوں تمہارا مشکور ہوں۔تمہارے لئے میں اس کو بڑھا دوں گا۔کیسا عظیم خدا ہے! اور یہ ہے حلم کی صفت جو انسان کے کام آتی ہے اس موقع پر اور بندہ کو بھی یہی تعلیم خدا تعالیٰ نے دی ہوئی ہے کہ تم بھی حلیم بنو، بندوں سے علم کا سلوک کیا کرو، ان کی کمزور چیزیں بھی بظاہر پردہ پوشی کرتے ہوئے تعریف کے ساتھ قبول کر لیا کرو عظیم گر ہے یہ معاشرہ کو سدھارنے کا اور اس میں حسن پیدا کرنے کا۔پس جو بندے دوسرے بندوں سے حلیم بنیں گے اللہ تعالیٰ ان کے لئے حلیم بنے گا۔پھر ایک اور جگہ حلم کے مضمون کو واضح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ ابْرُ هِيمَ لِأَبِيْهِ إِلَّا عَنْ قَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَةَ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلهِ تَبَرَّاً مِنْهُ اِنَّ ابْراهِيمَ لَأَوَّاهُ حَلِيمٌ (التوبة :۱۱۴) کہ دیکھو ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے جو استغفار تھا وہ صرف اس لئے تھا کہ اس نے وعدہ کرلیا تھا اپنے باپ سے کہ میں تمہارے لئے ضرور خدا سے بخشش کی دعا کروں گا لیکن جب اس پر یہ بات روشن ہوگئی اور کھل گئی کہ اَنَّهُ عَدُوٌّ لِلهِ کہ وہ خدا کا دشمن ہے تبرا مِنْهُ وہ اس سے بیزار ہو گیا اِنَّ اِبْرهِيْمَ لَأَوَاهُ حَلِيمُ ابراہیم بہت ہی نرم مزاج اور نرم خو اور نرم دل انسان تھا اور حلیم بھی تھا۔جو موقعہ کی مناسبت ہے اس سے اواہ کی صفت تو کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ دل میں نرمی تھی