خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 164

خطبات طاہر جلد ۳ 164 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنْ تُقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ ) ( التغابن : ۱۸) کہ تم جو خدا تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دیتے ہو وہ تمہارے لئے اس کو بڑھاتا رہتا ہے اور اس کے نتیجہ میں تم سے مغفرت کا سلوک بھی فرماتا ہے وَاللهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ۔اللہ تعالیٰ بہت ہی خدمت کو قبول کرنے والا ہے۔شکور خدمات کا بہترین نتیجہ دینے والا ہے، ان معنوں میں شکر ادا کرتا ہے تمہارا کہ تم جو کچھ اس کی خاطر کرتے ہو وہ اس کو قبول فرماتا ہے اسے استحسان کی نظر سے دیکھتا ہے اتنا نہیں دیتا جتنا تم نے کیا ہے اس سے بڑھ کر دیتا ہے۔شکور کی تو سمجھ آگئی حلیم کا کیا تعلق ہے یہاں؟ حلیم تو برد بار کو کہتے ہیں۔اس میں بردباری کا کیا تعلق ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ خدا کی خاطر جو لوگ دیتے ہیں وہ بظاہر یہی سمجھ رہے ہوں کہ ہم بہترین چیز دے رہے ہیں۔قرضہ حسنہ کا وہ مطلب نہیں ہے جو آپ یہاں دیتے ہیں قرضہ حسنہ۔انسان جب قرضہ حسنہ دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں جتنا دوں گا اتنا ہی واپس لوں گا۔اس میں حسن تو محض نام کا ہے صرف عدل کا پہلو ہے۔خدا تعالیٰ کو جب قرضہ حسنہ دیتے ہیں تو اس کے دو معانی ہیں ایک یہ کہ جتنا ہم دیں گے اس سے بے انتہا زیادہ لیں گے۔یعنی یہ انسان کو یقین ہوتا ہے کہ میرا خدا مجھ سے یہ سلوک کرے گا دوسرا یہ کہ ہم اپنی چیزوں میں سے بہترین چیز دیں گے۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران:۹۳) میں جو مضمون ہے حسن کا وہی خدا کے تعلق میں جب قرضہ حسنہ بولا جاتا ہے تو اس میں وہ داخل ہو جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے تفسیر صغیر میں جو تر جمہ کیا وہ حیرت انگیز ترجمہ ہے چند لفظوں میں اس حسن کی طرف اشارہ کر دیا ہے آپ نے۔فرماتے ہیں اس کا ترجمہ یہ ہے اور اگر تم اللہ کے لئے اپنے مالوں میں سے ایک اچھا حصہ کاٹ کر الگ کر دو یعنی قرضہ حسنہ سے مراد یہ ہے کہ اموال میں سے گندہ نہ دو بلکہ اچھا دو تب خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تم سے مغفرت کا سلوک کرے گا ،تمہارے اموال کو بڑھائے گا لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں حلیم بھی ہوں اور میں جانتا ہوں تمہاری کمزوریوں کو اور میں جانتا ہوں کہ حسن کے نام پر تم بسا اوقات بہت گندی گندی چیزیں بھی میرے نام