خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 163
خطبات طاہر جلد ۳ 163 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء میں تو اپنے حسن صنعت کو بگڑنے نہیں دوں گا، میں تو وہی چیز بناؤں گا جو مجھے پسند آتی ہے اور جس کے اوپر میں فخر کر سکتا ہوں۔تو انسان میں بھی جب یہ صفت پیدا ہوتی ہے علیمی کی تو اس کے اندر ایک نیا جہان پیدا کر دیتی ہے۔ہر صنعت کار میں ایک نئی عظمت پیدا ہو جاتی ہے۔ہر صاحب فہم و عقل میں ایک نئی عظمت کردار آجاتی ہے اور انسانوں کے اندر رہتے ہوئے بھی وہ ایک نیا وجود بن جاتا ہے۔تو یہ قرآن کریم میں جو خدا تعالیٰ کی صفات بیان ہوئی ہیں اور جن جن مواقع پر بیان ہوئی ہیں ان پر غور کریں آپ تو پھر آپ کو اپنی تربیت کا ایک نیا سلیقہ آجائے گا ، ایک نیا ادب نصیب ہوگا اور اسی دنیا میں رہتے ہوئے احمدی جوان باتوں پر غور کر رہا ہوگا وہ بالکل ایک نیا وجود پا رہا ہوگا۔یہ ہے قرآن کریم کی دولت اور عظمت جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔اب دیکھو خدا تعالیٰ کی وہ تمام صفات حسنہ جو اس کی صنعت کاری میں کہیں داخل ہوئی ہیں وہ کتنے لمبے عرصہ تک اوجھل رہی ہیں کائنات سے۔انسانی دور تو بہت ہی مختصر ہے جس میں اس نے سمجھنا شروع کیا انسانی دور کا وہ دور جو سمجھ میں داخل ہوا ہے وہ کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا اس دور کے زمانے کے مقابل پر جب انسان نا سمجھی میں زندگی بسر کر رہا تھا۔اگر کائنات کو چوبیس گھنٹوں میں تقسیم کیا جائے آغاز سے لے کر اب تک تو انسان کی پیدائش آخری سیکنڈ کے کچھ حصے کے بعد بنے گی اور وہ کچھ حصہ سیکنڈ کا سارا گزرنے کے بعد سیکنڈ کا لا کھواں حصہ ایسا ہوگا جس میں ہم اس شعور میں پہنچے ہیں جس میں اب بسر کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔اس کی رشد پر اس بات کا اثر نہیں پڑا ، اس کے فہم اور اس کی عقل اور اس کی صنعت کاری پر اس بات کا کوئی اثر نہیں پڑا کہ کوئی دُنیا جانتی ہے یا نہیں جانتی، کسی کو بات پسند آتی ہے کہ نہیں پسند آتی۔تو وہ عقل جو مستغنی ہو چکی ہو جو اپنی ذات میں قائم ہو اور کسی دیکھنے والے کی تحسین کی محتاج نہ رہی ہو وہ صحرا میں بھی لالہ کھلا رہی ہے جب کہ کوئی دیکھنے والا وجود نہیں ، وہ لالہ کے ہر ذرہ میں اس کے پردوں میں ایسے ایسے حسن پیدا کر رہی ہے جس کو دیکھنے والا وجود بھی محسوس نہیں کر رہا۔اس رشد کامل کو حلم کہتے ہیں۔اور ان معنوں میں خدا تعالیٰ حلیم ہے کہ تم تسبیحوں سے واقف ہو یا نہ ہو خدا کے صنعت کے حسن سے آشنا ہو یا نہ ہو خدا اپنی ذات میں حلیم ہے اور وہ حلیم ہی رہے گا۔