خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 162
خطبات طاہر جلد۳ 162 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء الٹراوائیلٹ روشنی سے ہیں۔یہ جب تحقیق سامنے آئی سائنسدانوں کے تو ایک نیا جہان علم کا کھل گیا۔انہوں نے دوسرے جانوروں پر جو تحقیق شروع کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہر جانور کی سماعت کا جہان بھی اپنا ہے، اور اس کا روشنی کا جہان بھی اپنا ہے۔بظاہر ہم ایک دنیا میں بسر کر رہے ہیں لیکن ہر جانور کو ایک اور دنیا نظر آ رہی ہے اور اپنی دنیا میں وہ کامل ہے اس کو ہر چیز مہیا ہے اپنی دنیا میں جو انسان سمجھتا ہے کہ اس کو مہیا نہیں اور ہمیں مہیا ہے۔اگر اس کی دنیا کے اعصاب اور اُس کی دنیا کی حواس خمسہ انسان کو نصیب ہوتے تو پھر انسان کی دنیا اس کے لئے اندھی ہو جاتی اور وہ ایک نئی دنیا میں چلا جاتا اور سمجھتا کہ انسان کو کچھ نصیب نہیں ہے اور سب کچھ مجھے نصیب ہے۔حیرت انگیز خدا ہے ہمارا جس نے کائنات کے ہر ذرہ میں ایسا حسن رکھ دیا کہ اس حسن کے ہر تجزیہ میں انسان ایک نیا حسن کا جہان پاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس کے بعد ہم اس کو نہیں سمجھتے اللہ تعالیٰ جانتا ہے پھر حلیم کا کیا مطلب ہوا ؟ حلیم کا مطلب ہے ایسا صاحب رشد، ایسا صناع، ایسا با کمال وجود جو حوصلہ بڑا رکھتا ہو اور اس بات سے بے نیاز ہو کہ دنیا اس کے حسن کی تعریف کر رہی ہے کہ نہیں کر رہی، اس کی عقل کو جانچ بھی رہی ہے یا نہیں، وہ اپنی ذات میں حلم رکھتا ہے، اس کے اندر ایک وقار پایا جاتا ہے، اس کی عقل میں اور اس کی صناعی اس بات کی محتاج نہیں کہ کوئی دوسرا تعریف کرے گا تو وہ اچھا صناع رہے گا بالکل بے نیاز ہے ان باتوں سے؟ جیسا کہ آپ نے بچپن میں وہ کہانی پڑھی ہوگی ایک نجار، ایک ترکھان ایک جنگلہ بنا رہا تھا کسی کے لئے جس پر اس نے انگوروں کی بیل چڑھانی تھی اور اس لئے اس نے سستا سودا کیا اس سے کہ ڈھانپ تو لے گی یہ بیل اس کو رندا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ خوبصورت بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن وہ جب آدمی دیکھنے کے لئے آیا کہ وہ کس طرح کا کام کر رہا ہے، تو اس نے دیکھا کہ بڑی محنت کر رہا ہے اور بڑی صفائی کر رہا ہے اُس کی اور بڑے رندے پھیر رہا ہے تو حیران ہو کر اس نے کہا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟ میں نے تم سے جو سودا کیا ہے تھوڑے پیسوں کا ہے، تھوڑے کام کا ہے۔اگر تمہارا خیال ہو کہ اچھا کام کر کے مجھ سے پیسے زیادہ لے لو گے تو میں بالکل نہیں دوں گا تمہیں۔اس نے کہا آپ بالکل فکر نہ کریں میں اپنے سودے پر قائم ہوں مگر آپ کے ذوق کے بد ہونے کے نتیجہ میں اپنی صناعی کو کس طرح بگاڑ لوں آپکا ذوق بد ہے تو میری صنعت کیوں اس سے متاثر ہو جائے،