خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 107
خطبات طاہر جلد۳ 107 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء کہ یہ ایمان نہیں لاتے اور اپنا نقصان اٹھا رہے ہیں۔عَلَى أَثَارِهِمْ میں ایک عجیب بیان ہوا ہے۔مضمون ایک جگہ قرآن کریم فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِيْنَ (الشعراء (۴) اور ایک اور جگہ یہ فرمایا ہے فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا آثَارِهِمْ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی قافلہ ہلاکت کی طرف گزرگیا ہو اور پیچھے نشان چھوڑتا جارہا ہو۔جیسے آگ میں داخل ہونے کے لئے یا ہلاکت کے گڑھے میں جانے کے لئے کچھ لوگ گزر رہے ہوں اور آواز نہ سن رہے ہوں بلانے پر واپس نہ لوٹیں ، ان کے نشانوں کو دیکھ کر کوئی تاسف سے رورہا ہو اور اپنے خدا کے حضور عرض کر رہا ہو کہ اے خدا! اس قوم کو کیا ہو گیا ہے میں بلاتا ہوں ، میں ان کے لئے دکھ محسوس کرتا ہوں۔میں کٹ رہا ہوں غم سے لیکن یہ میری بات کو نہیں سنتے۔وہ اسف اور غم کھا رہا ہے جو قوم کو غلط رستے پر چلتے ہوئے دیکھ کر پیدا ہوتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی غلامی کا دم بھرتے ہیں تو ویسا دل بھی تو پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اتنا نہ سہی اپنے ماحول کی تباہی کو دیکھ کر کچھ نہ کچھ غم دل میں پیدا ہونا چاہئے۔اگر نہیں ہے تو پھر آپ کی دعاؤں میں کوئی بھی اثر پیدا نہیں ہوگا۔ہر چیز کے لئے طاقت ہونی چاہئے۔کتنی بڑی کارکسی کے پاس ہو کتنا بڑا جہاز ہو جب تک اس میں پٹرول یا ڈیزل ہی نہیں ہے اس بیچارے نے چلنا کہاں سے ہے۔تو دعا ئیں صرف ایک منہ سے کچھ بڑ بڑانے یا بننے کا نام نہیں ہے کچھ تخیل تعمیر کرنے کا نام نہیں ہے۔جب تک اس تخیل میں قوت داخل نہیں ہوتی اس وقت تک و تخیل اڑ نہیں سکتا، وہ کام نہیں کر سکتا، وہ کوئی جلوے نہیں دکھا سکتا۔پس اپنی دعاؤں کو محروم نہ کریں طاقت سے۔ایک ذریعہ نم ہے اور غم سچی ہمدردی سے پیدا ہوتا ہے اس لئے اسلام کے لئے سچی محبت اور ہمدردی کریں اور اگر یہ نہیں ہوتی تو اسے عادت ڈالیں، گرد و پیش پر نظر ڈال کر اور اس کے لئے اپنے نفس کو تیار کریں جس طرح ایک انسان ورزش کے ساتھ اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس فلسفہ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں