خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 108

خطبات طاہر جلد ۳ 108 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء کہ اگر دعاؤں میں لذت پیدا نہ ہو، خشوع نہ ہو ، طاقت نہ آئے اور انسان محسوس کرے کہ بے طاقتی کا سا عالم ہے اور اس کے باوجود تھکے نہیں اور مایوس نہ ہو اور تکلف سے کوشش شروع کر دے۔اگر رونا نہیں آتا تو خدا کے حضور بناوٹ سے رونے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ کو اس کی حالت پر رحم آجائے گا۔وہ درد جو مصنوعی طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر کر رہا ہے اس کے دل میں لازماً اتر جائے گا یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں پھر فرماتے ہیں خدا سے دعا کرو اور یہی دعا کرو کہ اے خدا! میں کیا کروں میری دعا میں لذت نہیں ہے، میری دعا میں طاقت نہیں ہے تو مجھے طاقت عطا فرما۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ غیر معمولی طور پر دعا کی تو فیق عطا فرمائے گا۔دوسرا جذ بہ جس سے دعا طاقت پکڑتی ہے وہ خوشی ہے غم کے مقابل پر خوشی ہے لیکن خوشی وہ جوشکر میں بدلے۔خالی خوشی کوئی بھی معنی نہیں رکھتی لیکن کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے دونوں خزانے عطا فرمائے ہوئے ہیں اور ان دونوں خزانوں سے ناواقف ہے اور ان کا استعمال نہیں جانتا۔جس طرح پس ماندہ قوموں میں جو سائنس کے مضمون میں بہت پیچھے رہ گئی ہیں خدا تعالی بڑے خزانے عطا کرتا ہے آبشار میں اور دوسری معدنی طاقتیں لیکن وہ بیچاری لاعلمی کی وجہ سے ان سے استفادہ سے محروم رہ جاتی ہیں ، ان کو پتہ نہیں کہ پانی سے کس طرح فائدہ اٹھانا ہے، کانوں سے کس طرح فائدہ اٹھانا ہے ، تیل سے کس طرح فائدہ اٹھانا ہے تو خدا تعالیٰ نے کسی میں یہ دوخزانے عطا کئے ہیں بنی نوع انسان کو اور اس میں کسی میں فرق نہیں کیا۔یا غم ہے یا خوشی ہے اور قرآن اور سنت ہمیں بتاتے ہیں کہ اہل اللہ ان دونوں چیزوں کو طاقت میں تبدیل کر دیتے ہیں اور اپنے فائدہ کے عظیم الشان کام ان سے لیتے ہیں۔غم بھی خدا کی طرف منتقل کر دیتا ہے اور خوشی بھی خدا کی طرف منتقل کر دیتی ہے لیکن وہ خوشی جو شکر میں تبدیل ہو۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجدة: ۱۷) وہ اللہ تعالیٰ کو خوف کی وجہ سے بھی یاد کرتے ہیں اور طمع کے وقت بھی یاد کرتے ہیں جب انہیں کسی چیز کے ملنے کی خوشی ہوتی ہے۔جب انہیں کوئی امید پیدا ہوتی ہے اس وقت بھی خدا یاد آ جاتا ہے جب کچھ ہاتھ سے ضائع ہوتا ہے یا ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے تب بھی انہیں خدا یاد آتا ہے۔