خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 106

خطبات طاہر جلد ۳ 106 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء خلاف ہاتھ تو نہیں اٹھایا کرتے تھے۔گالیوں کے جواب میں گالیاں تو نہیں دینے لگ جایا کرتے تھے۔اس لئے بعض لوگ یہ واقعہ بیان کرتے ہیں سیرت کے دوران تو وہ جماعت کو اس کا صحیح مفہوم نہیں پہنچا سکتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خوب کرارا جواب دیا اور یہ جہالت کی بات ہے یہ عرفان کی کمی کے نتیجہ میں نتیجہ نکلتا ہے۔اس کے جواب میں صرف ایک فلسفہ تھا کہ ہم بے قرار ہیں محبت میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔جہاں تک اُس کی طرز عمل کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو صحیح روکا کیونکہ آپ جب لیکھرام سے بد زبانی سنتے تھے تو اس کو تو گالیاں نہیں دیتے تھے۔آپ تو اپنے خدا کے حضور تڑپ تڑپ کر دعائیں کیا کرتے تھے اس لئے دعا میں ایک غم کی حالت پائی جانی ضروری ہے اور وہ غم کی حالت بعض دفعہ اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ ایک دہر یہ اور مشرک کا غم بھی خدا تعالیٰ قبول فرماتا ہے اور ایک غمگین اور مضطر کی دعا کو قبول کر لیتا ہے۔لیکن وہ دعا ئیں جو اللہ کے لئے کی جائیں اور اس کے دین کے لئے کی جائیں اور اس کے دین کا غم اس کے پیچھے ہو ان دعاؤں میں اور عام دعاؤں میں زمین و آسمان کا فرق پڑ جاتا ہے۔پس احمدیت کے لئے آپ جب دعائیں کریں تو خشک منہ سے دعائیں نہ کریں بلکہ غم محسوس کریں اور یہ غم کئی قسم کے ہیں۔بنی نوع انسان سے جتنی سچی ہمدردی ہو اتنا ہی بنی نوع انسان کو بھٹکتا دیکھ کر ان کے لئے درد پیدا ہوتا ہے۔مائیں بچوں کے لئے غم محسوس کرتی ہیں اگر ان کو غلط راہ پر دیکھیں تو جل جل کر کڑھ کڑھ کر جان دے دیا کرتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کی دعاؤں میں جو طاقت تھی اس کے پیچھے یہ غم کام کر رہا تھا کیونکہ آپ کو ماں سے بہت زیادہ محبت تھی بنی نوع انسان سے اللہ کی مخلوق سے آپ ایسا پیار کرتے تھے کہ کبھی کسی ماں نے ایسا پیار اپنے بچے کو اتنا پیار نہیں دیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کی دعاؤں کا سر چشمہ جو آپ غیروں کے لئے کرتے تھے اس بات میں تھا کہ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الكيف:) کہ اے محمد ! تو ان لوگوں کے غم میں جو تیری مخالفت کر رہے ہیں جو تجھے دکھ دے رہے ہیں، جو تجھے گالیاں دے رہے ہیں اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا۔اِن لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا