خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 101

خطبات طاہر جلد ۳ 101 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء بہر حال کرنی چاہئے اور کوشش میں انتہا کر دینی چاہئے۔کوئی کسر نہ چھوڑے اپنی طاقت کے لحاظ سے لیکن یہ خیال کہ ان کی کوشش کامیاب ہو جائے گی اور دنیا کو بدل دے گی یہ غلط خیال ہے یہ جھوٹا وہم ہے۔کوشش پوری کرنے کے بعد آپ مثالیں دیتے ہیں کہ انبیاء سے بہتر کوشش اور کون کر سکتا ہے لیکن جب ان کی کوششیں بظاہر بے کار ہوتی دکھائی دیں کوئی اثر ان کا نظر نہیں آتا تھا تب بڑے زور سے جب خدا تعالیٰ کی طرف وہ دعا کے ساتھ مائل ہوئے تو اچانک وہ انقلابات رونما ہونے شروع ہو گئے جن کا وعدہ دیا گیا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قرآن کریم کی اس آیت سے بھی استنباط فرماتے ہیں۔وَاسْتَفْتَحُوا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدِ (ابراهیم (۱۲) کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ظلم حد سے بڑھتا جارہا ہے اور متکبر لوگ اور سرکش لوگ باز نہیں آتے وہ جتنی دفعہ بھی کوشش کرتے ہیں ان کو سمجھانے کی وہ اس کوشش کو ر ڈ کر دیتے ہیں۔تب وہ خدا کی طرف متوجہ ہوئے وَاسْتَفْتَحُوا اور عرض کی کہ اے اللہ ! ہم فتح تجھ سے مانگتے ہیں ہماری کوئی کوشش کامیاب نہیں ہے، ہماری ساری تدبیریں باطل ہیں اب ہم تیرا در کھٹکھٹاتے ہیں اور بڑے عجز کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ تو فتح عطا فرما۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ کہا، یہ طریق اختیار کیا تو خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ۔ہر سرکش کو خدا تعالی نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اس کی ہر تدبیر کو نا کام کر دیا اس کی ہر طاقت کو کمزوری میں بدل دیا اور کامل طور پر فتح عطا فرمائی۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کی مثال دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نوح کے اختیار میں کب تھا کہ مخالفین کو ہلاک کرتا۔یہ دعا ہی تھی جو آسمان سے پانی بن کر برسی اور زمین نے چشمے اگل دیئے جس نے نوح کے سارے مخالفین کو ہلاک کر دیا اور نوح کے تمام متبعین کو اللہ تعالیٰ غیر معمولی طور پر اس ہلاکت سے بچالیا۔پھر فرماتے ہیں کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کا نوح" بنایا ہے۔پس آپ جو نوح کی کشتی میں بیٹھنے والے ہیں اگر آپ واقعہ دنیا کو ہلاکت سے بچانا چاہتے ہیں اور خود بھی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہیں تو دعائیں کریں۔وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِید لیکن اس کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک اور نکتہ کی