خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 102

خطبات طاہر جلد ۳ 102 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ پہلے انبیاء سے میری مشابہت ایسی نہیں کہ محدود ہو یعنی ان کی کامیابیوں تک محدود ہو بلکہ مجھ میں اور گزشتہ انبیاء میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی برکت سے ایک فرق پڑ چکا ہے۔مثلاً ایک فرق آپ یہ بتاتے ہیں کہ مسیح نے جب دعا کی تو وہ تقدیر جو بظاہر مبرم نظر آتی تھی کہ صلیب پر اس مسیح کا مرنا مقدر ہے اور صلیب سے کوئی بچتا دیکھا نہیں گیا تھا اللہ تعالیٰ نے مسیح کی دعا سے مسیح کو اس ہلاکت سے بچا لیا اور بظاہر غالب تقدیر کو ٹال دیا۔فرمایا مجھ میں اور مسیح میں فرق یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو ہلاکت سے بچانے کا ایسا فکر مند نہیں جتنا زمانہ کو ہلاکت سے بچانے کے لئے بے قرار ہوں اور میری دعاؤں سے اللہ تعالیٰ زمانہ کو بچائے گا۔انسان کو ہلاکت سے بچائے گا۔تو ان دونوں چیزوں میں بہت بڑا فرق ہے اس لئے آپ بھی نوح کی کشتی میں بیٹھ کر یہ دعا نہ کریں کہ دنیا ہلاک ہو اور آپ بچائے جائیں بلکہ مسیح موعود کے غلام ہونے کے لحاظ سے آپ کا فرض یہ ہے کہ یہ دعا کریں کہ اے خدا! دنیا کو بھی ہلاکت سے بچا اور ہمیں بھی ہلاکت سے بچا۔لیکن دعائیں کرنے کے لئے دعاؤں کے ساتھ کچھ لوازمات ہیں وہ ضرور حاصل ہونے چاہئیں محض منہ کی دعائیں تو کام نہیں آیا کرتیں۔بہت سے لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ہم تو دعا ئیں کرتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی ، دعا کے فلسفہ کو بار بار سمجھنا چاہئے اور یہ فلسفہ بڑی تفصیل کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں ملتا ہے۔اتنا تفصیل سے آپ نے دعا کے مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ آپ کے سوا کوئی انسان بھی ایسا نہیں ملے گا آپ کو جس نے قرآن اور سنت سے استنباط کرتے ہوئے قرآن اور آنحضرت ﷺ کے فرمودات پر مبنی دعا کا فلسفہ بیان کیا ہو اور اتنی بار یکی اور اتنی تفصیل سے بیان کیا ہو۔اس کا ہزارواں حصہ بھی کسی اور عالم کو توفیق نہیں مل سکتی کیونکہ وہ صاحب تجر بہ نہیں، بڑے بڑے عارف باللہ گزرے ہیں لیکن جس تفصیل سے اور جس باریکی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کی طرف توجہ دلائی اور اس کا فلسفہ بیان فرمایا ویسی کسی اور کو تو فیق نصیب نہیں ہوئی۔تو آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کریں تو آپ کے سارے شکوے دور ہو جائیں گے کہ کیوں خدا آپ کی نہیں سنتا، اگر نہیں سنتا ؟ اور وہ بیماریاں معلوم ہو جائیں گی جن کی وجہ سے دعائیں نا مقبول ہوتیں ہیں اور وہ گر معلوم ہوں گے جن کی وجہ سے غیر معمولی دعاؤں میں قوت آتی ہے۔