خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 100
خطبات طاہر جلد۳ 100 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑی تیزی کے ساتھ اس دعوت الی اللہ کے کام کو روحانی شمر عطا ہور ہے ہیں، میٹھے پھل مل رہے ہیں اور بعض علاقوں میں کام کی رپورٹیں تو ہیں لیکن پھل نظر نہیں آ رہا یعنی جتنا کام نظر آتا ہے اس کی نسبت سے محنت کو پھل نہیں لگ رہا۔ان حالات کا جائزہ لینے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کو دعا کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ دلاؤں۔امر واقعہ یہ ہے کہ دعا کے بغیر کوئی محنت بھی ثمر بار نہیں ہوا کرتی۔جن جگہوں میں اللہ تعالیٰ محنت کو زیادہ پھل دے رہا ہے وہاں معلوم ہوتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں تو میرے علم میں وہ لوگ ہیں جو بہت دعا گو ہیں اور کثرت کے ساتھ دعا کرتے ہیں اور کوئی ان میں تکبر نہیں ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہماری کوششوں کے نتیجہ میں کچھ ہوگا۔وہ کلیتہ انکساری اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سپرد معاملات کرتے ہیں اور محنت کرنے کے باوجود بھی فخر نہیں کرتے بلکہ شرم محسوس کرتے ہیں کہ ہم سے کمی ہو گئی اور دعا کرتے بھی ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ جتنی کوشش کرنی چاہئے تھی وہ ہم کر نہیں سکے اور ابھی بہت خامیاں باقی رہ گئی ہیں۔ایسی جگہوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی تیزی کے ساتھ تبلیغ کو اللہ تعالیٰ پھل عطا فرمارہا ہے اور حیرت انگیز طور پر ان کی باتوں میں اثر پیدا ہے اور جہاں ان کی باتیں اثر نہیں پیدا کرتیں وہاں اللہ تعالیٰ رؤیا اور مبشرات کے ذریعہ لوگوں کو کھینچ کر لا رہا ہے۔تو صاف پتہ چلتا ہے کہ جن علاقوں میں محنت تو موجود ہے لیکن محنت کو پھل نہیں لگ رہا وہاں دعاؤں میں کمی ہے یا اپنی کوشش پر انحصار زیادہ ہو گیا ہے یا ایک فخر اور تکبر کا کیڑا پیدا ہوگیا ہے کہ ہم لوگ گویا زور بازو سے دنیا میں تبدیلی پیدا کر لیں گے ایسا واقعہ کبھی رونما نہیں ہوا۔روحانی دنیا کے انقلابات ہمیشہ منکسر بندوں کو عطا ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حضور کامل عاجزی رکھتے ہیں اور عاجزی کا رویہ رکھتے ہیں ، اپنے اوپر انحصار نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ پر انحصار کرتے ہیں اسی لئے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تمام انبیاء نے جب اپنی ساری کوششیں کر لیں اور ساری ظاہری کوششیں ناکام ہو گئیں تب بشدت ان کی توجہ دعاؤں کی طرف منتقل ہوئی اور یہ دعا ہی تھی جس نے پھر وہ انقلاب برپا کیا۔چنانچہ قرآن کریم کی آیات سے استنباط کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کو توجہ دلاتے ہیں کہ ان قرآنی بیانات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ روحانی جماعتوں کو کوشش