خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 433

خطبات طاہر جلد ۲ 433 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۳ء کوئی پہنچتا ہے طبعا اور فطرتا ان میں یہ رجحان ہوتا ہے کہ خوب کام لیا جائے۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے کام سے تو میں بالکل نہیں ڈرتا لیکن جب غیروں میں بکثرت لیکچر ز ہوتے ہیں تو وہاں ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کیونکہ میں اپنی ذات کے طور پر تو ان کے سامنے پیش نہیں ہورہا ہوتا بلکہ جماعت احمد یہ کے نمائندہ کے طور پر پیش ہو رہا ہوں گا۔پس اللہ تعالیٰ سے بہت دعا کرنی چاہئے کہ وہ مجھے اس نمائندگی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آج ہی مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بیرونی جماعتوں کی طرف سے بعض علمی لیکچر ز رکھ دیئے گئے ہیں ان کی تیاری کا تو وقت کوئی نہیں۔پرسوں یا ترسو انشاء اللہ روانگی ہے اس لئے طبعی بات ہے کہ ذہن میں کچھ فکرتو پیدا ہوتی ہے لیکن میرا گزشتہ تجربہ یہ ہے کہ اگر چہ پہلے بھی یہی حال تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے توفیق عطا فرما دی تھی اور جب وہ وقت گزر گئے تو اتنے آسان اور ہلکے پھلکے نظر آئے جیسے کوئی بوجھ ہی نہ تھا۔یہ بوجھ تو آپ سب نے میرے ساتھ مل کر اٹھانا ہے میں نے اکیلے نہیں اٹھانا کیونکہ میں اپنی ذات کا نمائندہ نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کا نمائندہ ہوں۔پس بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر پہلو سے اسے بابرکت بنائے اور اس کے ذریعہ اسلام کی عظیم الشان فتوحات کی بنیادیں رکھی جائیں۔ایسے نئے دروازے کھلیں جن سے بڑی شان کے ساتھ نئی فتح کے علم بلند کرتی ہوئی جماعت احمد یہ نئے میدانوں میں نکل آئے اور نئی نئی قومیں فتح ہوں اور نئے نئے دل مسخر کئے جائیں اور اس حال میں خدا تعالیٰ اس سفر کو ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ سفر ختم ہو رہا ہو اور اسلام کی عظیم الشان فتوحات کا آغاز ہورہا ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: جیسا کہ میں نے اہل ربوہ کو پہلے بھی نصیحت کی تھی کہ انہیں میرے سفر کے دوران نہایت ہی امن اور محبت سے رہنا چاہئے اور ویسے بھی آپ کا یہ فرض ہے کہ دن بدن اپنے جذبات پر زیادہ قابو پائیں اور آپ نفس امارہ پر سوار ہوں نہ کہ نفس امارہ آپ پر لیکن جب خلیفہ المسیح مرکز سے باہر ہو تو اسے بالخصوص یہ فکر اور پریشانی ہوتی ہے کہ پیچھے بعض نادان ایسی غلطیاں نہ کریں جن سے تکلیف کی خبر پہنچے اس لئے اگر آپ عام حالات میں غصہ اور اشتعال دباتے ہیں تو وہ بھی بڑا باعث ثواب ہے لیکن ان دنوں میں اگر آپ اپنے ذاتی جذبات کو جماعتی مفاد پر قربان کر دیں تو آپ کو خاص ثواب ہوگا۔کوئی