خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 432
خطبات طاہر جلد ۲ 432 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۳ء ملک ہے جہاں ماضی اور مستقبل کے افق مل رہے ہیں۔اگر چہ خط تو سمندروں پر سے ہر جگہ گزررہا ہے لیکن ایک با قاعدہ آباد ملک نبی ہی ہے جہاں سے وہ خط گزرتا ہے، اس لئے اسے خاص اہمیت حاصل ہے اور اسی نقطۂ نگاہ سے اسے زمین کا کنارہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ زمین تو گول ہے اس کا ویسے تو کوئی کنارا نہیں ہو سکتا۔ہاں جہاں دن رات ملتے ہیں اور جہاں تاریخیں بدلتی ہیں اس پہلو سے ایک کنارہ ضرور آجاتا ہے۔پس اس نقطۂ نگاہ سے اسے ہمارے علم کلام میں یہ اہمیت حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا ( تذکرہ صفحہ: ۲۶۰) تو ظاہری معنوں میں بھی یہ ایک کنارہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو تبلیغ پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی اور اب میں بھی وہاں اسی نیت سے جا رہا ہوں کہ جماعت کو منظم کروں اور وہ ایک نئی روح اور نئے ولولے کے ساتھ بہت تیزی سے اس ملک میں روحانی لحاظ سے غالب آجائے۔لہذا بہت کثرت سے دعاؤں کی ضرورت ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے گزشتہ سفر میں تجربہ کیا تھا ہماری ساری طاقت اور ہر کام کی بنادعا پر ہے۔جتنی کثرت سے لوگ اللہ تعالیٰ سے نہایت عاجزی، گریہ وزاری، محبت اور پیار کی اداؤں سے مانگیں گے اتنا ہی وہ عطا کرتا چلا جائے گا اس کے ہاں کوئی کمی نہیں اس لئے احمدیوں کو ان دعاؤں میں لگ جانا چاہئے۔ہر احمدی جو دعا کرے گا اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ضرور فضل ظاہر فرمائے گا۔جتنی زیادہ دعائیں ہوں گی اتنے ہی زیادہ وہ فضل فرمائے گا۔اس کے علاوہ بھی بعض ملک ہیں جہاں اس سفر کے دوران کچھ عرصہ کے لئے قیام ہوگا۔مثلاً ایک سنگا پور ہے وہاں انشاء اللہ تعالیٰ قیام کا خیال ہے اور پھر واپسی پر آخری قدم سیلون پر رکھ کر انشاء اللہ تعالیٰ کراچی واپس آنا ہے۔پروگرام مختصر ہے زیادہ لمبا نہیں تقریباً سوامہینہ کا پروگرام ہوگا لیکن مصروفیات بہت زیادہ ہیں۔ایسی جماعتیں مثلاً نجی اور آسٹریلیا والے روز روز یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ خلیفہ مسیح وہاں ان کے پاس پہنچے اس لئے انکار جحان اس موقعہ پر ویسا ہی ہوتا ہے جیسے سونے کے انڈے دینے والی بلخ کے متعلق ایک شخص کا رجحان تھا۔اس نے کہا یہ تو روز ایک انڈا دیتی ہے اب اتفاق سے قابو آئی ہوئی ہے اسے ذبح کر کے سارے انڈے اکٹھے ہی کیوں نہ نکال لوں۔تو ایسی جماعتیں جہاں بہت دیر سے