خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 434

خطبات طاہر جلد ۲ 434 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۳ء زیادتی بھی کرے تو صبر اور حوصلہ سے برداشت کریں خواہ یہ زیادتی اندر سے ہو یا باہر سے، خواہ آپ پر افراد جماعت کی طرف سے ہو (نعوذ بالله من ذلک ) یا بیرونی احباب کی طرف سے، ہر صورت میں نہایت ہی اچھا نمونہ صبر اور حوصلہ کا دکھا ئیں اور خوب دعائیں کریں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ انتقام سے ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے مگر حقیقت میں جو عفو سے ٹھنڈک اور تسکین حاصل ہوتی ہے اسے انتقام کی ٹھنڈک سے کوئی نسبت ہی نہیں۔سچی دائمی اور تسکین بخش ٹھنڈک عفو سے ہی حاصل ہوتی ہے۔انتقام کی ٹھنڈک جلی جلی سی ہے، اس میں کوئی لطف نہیں ہوتا جیسے آگ جلا دے تو جلنے کے بعد جو کچھ رہ جائے اسے بھی آپ ٹھنڈک کہہ سکتے ہیں لیکن کسی چیز کو جلانے سے روک دیا جائے تو اس سے جو تسکین بخش ٹھنڈ پہنچے وہی حقیقی تسکین ہے جو عفو سے حاصل ہوتی ہے اس لئے حتی المقدور عفو سے لطف اندوز ہوں اور انتقام کی جھوٹی تسکین کا تصور بھی دل سے مٹا ڈالیں۔دوسرا انتظامی ڈھانچہ جو پیچھے ہو گا وہ میں بیان کر دیتا ہوں۔صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب مستقل ناظر اعلیٰ ( مستقل ناظر تو کوئی بھی نہیں یعنی ان معنوں میں کہ اس کا ذاتی حق ہو لیکن جو چلے آرہے تھے ) وہ آجکل باہر ہیں ان کی عدم موجودگی میں مکرم صوفی غلام محمد صاحب ناظر اعلیٰ کے مکمل اختیارات کے ساتھ ، قائم مقام ناظر اعلیٰ ہیں۔بعض اوقات قائم مقام کے اختیارات کم ہوتے ہیں لیکن ان کے بعینہ وہی اختیارات ہیں جو پورے یعنی Full Fledged ناظر اعلیٰ کے ہوا کرتے ہیں اور مرزا غلام احمد صاحب امیر مقامی ہوں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔دونوں اپنے اپنے روایتی اختیارات کے دائرہ میں رہیں گے۔اگر مقامی طور پر کسی قسم کی کوئی مشکل ہو، کوئی مسئلہ ہو تو آپ مرزا غلام احمد صاحب کی طرف رجوع کریں۔علاوہ ازیں مشاورتی کمیٹیاں بھی بنا دی گئی ہیں دونوں ان سے وقتاً فوقتاً استفادہ کرتے رہیں انشاء اللہ تعالیٰ۔تو یہ وہ انتظامیہ تھی جس کا انتظام کیا جانا بھی ضروری تھا۔مسجد مبارک میں نمازوں کے لئے مکرم صوفی غلام محمد صاحب پھر مولوی دوست محمد صاحب اور پھر حافظ مظفر احمد صاحب بالترتیب امام الصلوۃ ہوں گے۔خطبہ جمعہ سے متعلق امیر مقامی کو یہ اختیار ہے کہ خواہ وہ مقررہ امام الصلوۃ میں سے یا ان کے علاوہ کسی اور کو مقرر کرے یا خود خطبہ دے۔خطبہ دینا دراصل امیر کا حق ہے اس لئے وہ یہ حق خود استعمال کریں یا کسی کو تفویض کریں میدان کی صوابدید پر ہے۔(روز نامه الفضل ربو ه۲۰ رستمبر ۱۹۸۳ء)